(۱۶۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ أَخْبَرَہُ: أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَ أَنْ صَلَّی الصُّبْحَ مِنَ اللَّیْلَۃِ الَّتِی طُعِنَ فِیہَا عُمَرُ فَأُوقِظَ عُمَرُ فَقِیلَ لَہُ الصَّلاَۃَ الصَّلاَۃَ الصُّبْحَ۔ فَقَالَ عُمَرُ: نَعَمْ وَلاَ حَظَّ فِی الإِسْلاَمِ لِمَنْ تَرَکَ الصَّلاَۃَ۔ فَصَلَّی عُمَرُ وَجُرْحُہُ یَثْعَبُ دَمًا۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۸۲]
(١٦٧٣) مسور بن مخرمہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) کے پاس اس واقعہ کے بعد تشریف لائیجب رات میں عمر (رض) کو خنجرمارا گیا تھا، انھوں نے صبح کی نماز پڑھائی، عمر (رض) کو بیدار کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ صبح کی نماز ! سیدنا عمر (رض) نی فرمایا : ہاں جس نے نماز کو چھوڑ دیا اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں، سیدنا عمر (رض) کے نماز پڑھی اور ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔