(۱۶۷۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ رَأَی عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِیلَ وَکَانَ مِنْ أَفَاضِلِ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : رَأَیْتُ کَأَنِّی دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَإِذَا أَنَا بِقِبَابٍ مَضْرُوبَۃٍ فَقُلْتُ لِمَنْ ہَذَا؟ فَقَالَ : لِذِی کَلاَعٍ وَحَوْشَبًا وَکَانَا مِمَّنْ قُتِلَ مَعَ مُعَاوِیَۃَ قَالَ قُلْتُ : مَا فَعَلَ عَمَّارٌ وَأَصْحَابُہُ؟ قَالُوا : أَمَامَکَ۔ قَالَ قُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّہِ وَقَدْ قَتَلَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔ فَقَالَ: إِنَّہُمْ لَقُوا اللَّہَ فَوَجَدُوہُ وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ؟ قَالَ قُلْتُ: مَا فَعَلَ أَہْلُ النَّہْرِ؟ قَالَ: لَقُوا بَرْحًا۔ فَقَالَ یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَسَمِعْتُ یَزِیدَ فِی الْمَجْلِسِ بِبَغْدَادَ وَکَانَ یُقَالُ إِنَّ فِی الْمَجْلِسِ سَبْعِینَ أَلْفًا قَالَ: لاَ تَغْتَرُّوا بِہَذَا الْحَدِیثِ فَإِنَّ ذَا الْکَلاَعِ وَحَوْشَبًا أَعْتَقَا اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفَ أَہْلِ بَیْتٍ وَذَکَرَ مِنْ مَحَاسِنِہِمْ أَشْیَائَ۔
[حسن]
(١٦٧٢٠) ابو وائل کہتے ہیں کہ عمرو بن شرحبیل جو ابن عمر کے قریبی اصحاب میں سے تھے نے خواب دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں بڑے بڑے گنبد دیکھے میں نے پوچھا : یہ کن کے لیے تو جواب ملا : یہ ذال کلاع اور ذالحوشب کے لوگوں کے لیے ہیں۔ یہ دونوں وہ تھے جو معاویہ کے ساتھ مقتول ہوئے تھے۔ میں نے کہا : عمار اور اس کے ساتھوں کا کیا بنا ؟ کہا : وہ آپ کے آگے ہیں میں نے کہا : سبحان اللہ ! انھوں نے تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کیا ہے۔ پھر اکٹھے ؟ تو جواب ملا : انھوں نے اللہ کی مغفرت کو بڑا وسیع پایا۔ میں نے کہا : اہل النہر کے ساتھ کیا ہوا ؟ کہا : وہ تکلیف کو پہنچے۔ یحییٰ بن ابی طالب کہتے ہیں : میں نے یزید سے ایک مجلس میں سنا، وہ بغداد میں تھے اور مجلس میں ستر ہزار لوگ تھے کہنے لگے : یہ حدیث تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے، بیشک ذالکلاع اور ذالحوشب نے ١٢٠٠٠ اہل بیت کو آزاد کیا تھا اور بھی ان کے محاسن بیانکیے۔