(۱۶۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ: أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی عَائِشَۃَ فَقَالَ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَنْبِئِینِی عَنْ قِیَامِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ {یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ} قَالَ قُلْتُ: بَلَی۔ قَالَ فَقَالَتْ: فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی افْتَرَضَ الْقِیَامَ فِی أَوَّلِ ہَذِہِ السُّورَۃِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَصْحَابُہُ حَوْلاً حَتَّی انْتَفَخَتْ أَقْدَامُہُمْ ، وَأَمْسَکَ اللَّہُ خَاتِمَتَہَا اثْنَیْ عَشَرَ شَہْرًا فِی السَّمَائِ ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی التَّخْفِیفَ فِی آخِرِ ہَذِہِ السُّورَۃِ ، فَصَارَ قِیَامُ اللَّیْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِیضَۃٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ فِی حَدِیثٍ طَوِیلٍ۔
وَقَدْ أَشَارَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی إِلَی مَعْنَی ہَذَا دُونَ الرِّوَایَۃِ وَزَادَ فَقَالَ: وَیُقَالُ نُسِخَ مَا وَصَفَتْ فِی الْمُزَّمِّلِ بِقَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی {أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ} وَدُلُوکُ الشَّمْسِ زَوَالُہَا {إِلَی غَسَقِ اللَّیْلِ} الْعَتَمَۃِ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ} وَقُرْآنُ الْفَجْرِ الصُّبْحُ {إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا وَمَنِ اللَّیْلِ فَتَہَجَّدْ بِہِ نَافِلَۃً لَکَ} فَأَعْلَمَہُ أَنَّ صَلاَۃَ اللَّیْلِ نَافِلَۃٌ لاَ فَرِیضَۃٌ ، وَأَنَّ الْفَرَائِضَ فِیمَا ذُکِرَ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۷۴۶]
(١٦٧٧) سیدنا سعد بن ہشام (رض) سے روایت ہے کہ وہ سیدہ عائشہ (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا : اے ام المؤمنین ! مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیام کے متعلق بتائیں، انھوں نے کہا : کیا تو نے { یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ } نہیں پڑھی ؟ صحابی کہتا ہے کہ میں نے کہا : کیوں نہیں ! سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ابتدائے سورت میں قیام فرض کیا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب ایک سال تک قیام کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کے قدم سوج گئے اور اللہ نے سورت کا آخری حصہ آسمان میں بارہ ماہ تک رو کے رکھا، پھر اللہ نے سورت کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی تو فرض کے بعد رات کا قیام نفلی ہوگیا۔