(۱۶۷۵۴) وَفِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی فَاخِتَۃَ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُتِیَ بِأَسِیرٍ یَوْمَ صِفِّینَ فَقَالَ : لاَ تَقْتُلْنِی صَبْرًا۔ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ أَقْتُلُکَ صَبْرًا إِنِّی أَخَافُ اللَّہَ رَبَّ الْعَالَمِینَ۔ فَخَلَّی سَبِیلَہُ ثُمَّ قَالَ : أَفِیکَ خَیْرٌ تُبَایِعُ؟ قَالَ الشَّافِعِیُّ : والْحَرْبُ یَوْمَ صِفِّینَ قَائِمَۃٌ وَمُعَاوِیَۃُ یُقَاتِلُ جَادًّا فِی أَیَّامِہِ کُلِّہَا مُنْتَصِفًا أَوْ مُسْتَعْلِیًا وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ لأَسِیرٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاوِیَۃَ : لاَ أَقْتُلُکَ صَبْرًا إِنِّی أَخَافُ اللَّہَ رَبَّ الْعَالَمِینَ۔ قَالَ الشَّیْخُ الإِمَامُ رَحِمَہُ اللَّہُ قَوْلُ الشَّافِعِیِّ وَمُعَاوِیَۃُ یُقَاتِلُ جَادًّا فِی أَیَّامِہِ کُلِّہَا مُنْتَصِفًا أَوْ مُسْتَعْلِیًا مَعْنَاہُ أَنَّہُ کَانَ یُسَاوِیہِ مَرَّۃً فِی الْقِتَالِ وَیَعْلُوہُ أُخْرَی فَکَانَ فِئَۃً لِہَذَا الأَسِیرِ وَمَعَ ذَلِکَ لَمْ یَقْتُلْہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَلَمْ یَسْتَجِزْ قَتْلَہُ۔ وَقِیلَ مُنْتَصِفًا عِنْدَ نَفْسِہِ لِدَعْوَاہُ أَنَّہُ یَطْلُبُ دَمَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَمُسْتَعْلِیًا عِنْدَ غَیْرِہِ لِعِلْمِہِمْ بِأَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ بَرِیئًا مِنْ دَمِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَالأَوَّلُ أَصَحُّ۔ [صحیح]
(١٦٧٥٤) ابو فاختہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کے پاس صفین کے قیدی لائے گئے تو انھوں نے فرمایا : مجھے قتل نہ کرنا، حضرت علی (رض) نے فرمایا : نہیں کروں گا اور اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ پھر پوچھا : کیا آپ میں کوئی خیر ہے، جو حاصل کی جائے ؟ امام شافعی فرماتے ہیں کہ جنگ صفین ان دنوں ہو رہی تھی اور معاویہ بہت کوشش کر رہے تھے، کبھی وہ برابر ہوتا کبھی بلند ہوجاتا اور حضرت علی (رض) معاویہ (رض) کے ساتھی قیدی کو فرما رہے تھے کہ صبر کرو میں تمہیں قتل نہیں کروں گا مجھے اللہ رب العالمین کا خوف ہے اور معاویہ کبھی خون عثمان کے لیے اور کبھی غلبہ کے لیے لڑتے لیکن حضرت علی خون عثمان سے بری تھے۔