hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 16773

.

سنن البيهقي

16773
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۷۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَہَی أَصْحَابَہُ أَنْ یَتَبَسَّطُوا عَلَی الْخَوَارِجِ حَتَّی یُحْدِثُوا حَدَثًا فَمَرُّوا بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَبَّابٍ فَأَخَذُوہُ فَانْطَلَقُوا بِہِ فَمَرُّوا عَلَی تَمْرَۃٍ سَاقِطَۃٍ مِنْ نَخْلَۃٍ فَأَخَذَہَا بَعْضُہُمْ فَأَلْقَاہَا فِی فَمِہِ فَقَالَ لَہُ بَعْضُہُمْ تَمْرَۃَ مُعَاہِدٍ فَبِمَ اسْتَحْلَلْتَہَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ خَبَّابٍ : أَفَلاَ أَدُلُّکُمْ عَلَی مَنْ ہُوَ أَعْظَمُ حُرْمَۃً عَلَیْکُمْ مِنْ ہَذَا؟ قَالُوا : نَعَمْ۔ قَالَ : أَنَا۔ فَقَتَلُوہُ فَبَلَغَ ذَلِکَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِمْ أَنْ أَقِیدُونَا بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَبَّابٍ۔ قَالُوا : کَیْفَ نُقِیدُکَ بِہِ وَکُلُّنَا قَتَلَہُ۔ قَالَ : وَکُلُّکُمْ قَتَلَہُ۔ قَالُوا : نَعَمْ۔ قَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ثُمَّ أَمَرَ أَنْ یَبْسُطُوا عَلَیْہِمْ وَقَالَ : وَاللَّہِ لاَ یُقْتَلُ مِنْکُمْ عَشْرَۃٌ وَلاَ یُفْلِتُ مِنْہُمْ عَشْرَۃٌ۔ قَالَ : فَقَتَلُوہُمْ قَالَ فَقَالَ اطْلُبُوا فِیہِمْ ذَا الثُّدَیَّۃِ۔ قَالَ : وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثَ۔ [حسن]
(١٦٧٦٧) ابو مجلز کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے اپنے ساتھیوں کو منع کردیا تھا کہ خوارج پر اس وقت تک حملہ نہ کرنا جب تک کہ ان کی طرف سے کوئی بات ہو تو وہ عبداللہ بن خباب کے پاس سے گزرے، ان کو پکڑا اور لے کر چلے یہاں تک کہ گری ہوئی کھجوروں کے پاس سے گزرے۔ ان میں سے بعض کو اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیا تو بعض کہنے لگے : یہ تو ذمیوں کی کھجوریں ہیں یہ کیسے حلال ہیں ؟ تو عبداللہ بن خباب کہنے لگے کہ کیا اس سے بھی بڑی حرمت کی طرف تمہاری توجہ نہ دلاؤں ؟ کہنے لگے : ہاں تو کہا میں تو انھوں نے اس کو قتل کردیا۔ تو حضرت علی کو اس بات کا پتہ چلا تو ان لوگوں کو کہا کہ عبداللہ کا قصاص دو یا دیت دو ۔ وہ کہنے لگے : ہم سب نے قتل کیا ہے کیسے قصاص دیں ؟ پوچھا : سب نے قتل کیا ہے ؟ تو وہ بولے : ہاں۔ تو حضرت علی نے اللہ اکبر کہا اور حملے کا حکم دے دیا، فرماتے ہیں : واللہ ان میں سے ١٠ بھی نہیں بچے ان کو قتل کردیا اور فرمایا : ان میں سے اس پستان والے کو تلاش کرو پھر مکمل حدیث بیان کی۔