(۱۶۷۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی غَالِبٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ أَبِی أُمَامَۃَ فَجِیئَ بِرُئُ وسٍ مِنْ رُئُ وسِ الْخَوَارِجِ فَنُصِبَتْ عَلَی دَرَجِ دِمَشْقَ فَقَالَ : کِلاَبُ النَّارِ ۔ قَالَہَا ثَلاَثًا : شَرُّ قَتْلَی قُتِلُوا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَائِ خَیْرُ قَتْلَی مَنْ قَتَلَہُمْ وَقَتَلُوہُ ۔ قَالَہَا ثَلاَثًا قُلْتُ شَیْئًا سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَوْ شَیْئًا تَقُولُہُ بِرَأْیِکَ؟ قَالَ : إِنِّی إِذًا لَجَرِیء ٌ بَلْ شَیْء ٌ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [ضعیف]
(١٦٧٨٢) ابو غالب کہتے ہیں کہ میں ابو امامہ کے ساتھ تھا کہ خوارج کے سر لائے گئے اور وہ دمشق کے میناروں پر رکھے گئے تو کہا : جہنم کے کتے اور تین مرتبہ یہی فرمایا اور فرمایا : آسمان کے نیچے سب سے بدترین مقتول اور ان کو قتل کرنے والے اور ان کے ہاتھوں قتل ہونے والے سب سے بہترین، تین مرتبہ فرمایا۔ میں نے پوچھا : یہ آپ خودکہہ رہے ہیں یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے ؟ تو فرمایا : کیا میں اتنا جرأت والا ہوں میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے۔