(۱۶۷۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ : مَا عَلِمْتُ أَحَدًا کَرِہَ قِتَالَ اللُّصُوصِ وَالْحَرُورِیَّۃِ تَأَثُّمًا إِلاَّ أَنْ یَجْبُنَ رَجُلٌ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَۃِ الَّذِینَ کَرِہُوا قِتَالَہُ وَلَمْ یَمْضُوا مَعَہُ فِی حَرْبِ صِفِّینَ أَنَّہُمُ اعْتَذَرُوا بِبَعْضِ الْمَعَاذِیرِ وَہُمْ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ وَغَیْرُہُمْ فَبَعْضُہُمْ رُوِیَ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ أَخْطَأَ رَأْیِی وَبَعْضُہُمْ کَانَ قَدْ قَتَلَ مُسْلِمًا حَسِبَہُ بِإِسْلاَمِہِ مُتَعَوِّذًا فَعَاہَدَ اللَّہَ تَعَالَی أَنْ لاَ یُقْتَلَ رَجُلاً یَقُولُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَبَعْضُہُمْ کَانَ سَمِعَ تَعْظِیمَ الْقِتَالِ فِی الْفُرْقَۃِ فَحَسِبَہُ قِتَالاً فِی الْفُرْقَۃِ وَبَعْضُہُمْ أَحَبَّ أَنْ یَتَوَلاَّہُ غَیْرُہُ وَقَدْ ذَہَبَ أَکْثَرُہُمْ إِلَی أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ مُحِقًّا فِی قِتَالِہِ حَامِلاً لِمَنْ خَالَفَہُ عَلَی طَاعَتِہِ یَقْصِدُ بِقِتَالِہِ أَہْلَ الشَّامِ حَمْلَ أَہْلَ الاِمْتِنَاعِ عَلَی تَرْکِ الطَّاعَۃِ لِلإِمَامِ وَبِقِتَالِہِ أَہْلَ الْبَصْرَۃِ دَفْعَ مَا کَانُوا یَظُنُّونَ عَلَیْہِ مِنْ قَتْلِہِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَوْ مُشَارَکَتِہِ قَاتِلَہُ فِی دَمِہِ أَوْ مَا یَقْدَحُ فِی إِمَامَتِہِ وَاسْتَدَلُّوا عَلَی بَغْیِ مَنْ خَالَفَہُ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ بِمَا کَانَ سَبَقَ لَہُ مِنْ شُورَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَبَیْعَۃِ مَنْ بَقِیَ مِنْ أَصْحَابِ الشُّورَی إِیَّاہُ قَبْلَ وُقُوعِ الْفُرْقَۃِ وَأَنَّہُ کَانَ فِی وَقْتِہِ أَحَقَّہُمْ بِالإِمَامَۃِ بِخَصَائِصِہِ وَأَنَّہُمْ وَجَدُوا عَلاَمَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لِلْفِئَۃِ الْبَاغِیَۃِ فِیمَنْ خَالَفَہُ۔
(١٦٧٨٥) محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی نے چوروں اور حروریوں سے لڑائی کرنا پسند کیا ہو مگر بزدل آدمی ہی۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ایک قوم نے اس جنگ کو ناپسند کیا ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ جنگ صفین سے بہت سے صحابہ نے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ ان میں سعد بن ابی وقاص، اسامہ بن زید اور محمد بن مسلمہ (رض) وغیرہ تھے۔ بعض سے منقول ہے کہ انھوں نے فرمایا : میری رائے غلط تھی۔ بعض نے کہا : اس نے ایک مسلمان کو قتل کیا یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ اپنے اسلام کے ذریعے پناہ حاصل کررہا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ آئندہ کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرے گا جو لا الہٰ الا اللہ کہتا ہو۔ بعض نے فرقت میں قتال کو بڑا سمجھا اور اسے قتال فی الفرقہ گمان کیا اور بعض نے چاہا کہ اس کا غیر اس کا والی بن جائے۔ ان میں سے اکثر اس طرف گئے ہیں کہ حضرت علی (رض) اس لڑائی حق پر تھے۔ آپ (رض) کی لڑائی ان لوگوں کے لیے تھی جنہوں نے آپ کی فرمابرداری سے اعراض کیا، یعنی اہل شام جو امام یک اطاعت سے رک گئے اور اہل بصرہ سے اس لیے قتال کیا کہ وہ گمان کرتے تھے انھوں نے ہی حضرت عثمان کو قتل کیا یا کم از کم قتل میں شریک ہوئے۔ وہ اسی وجہ سے آپ سے لڑے یا وہ آپ کی امانت میں عیب لگاتے تھے۔ ان لوگوں نے اہل شام کی بغاوت اور مخالفت پر امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب (رض) کی بنائی ہوئی شوریٰ سے دلیل پکڑی اور یہ بھی کہ بطابِ شوریٰ میں سے باقیوں نے فرقت سے پہلے ان کی بیعت کرلی تھی اور وہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے امامت کے زیادہ حق دار تھے اور لوگوں نے ان کی مخالفین میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بتلائی ہوئی علامت پہچان لی تھی۔