(۱۶۸۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ حَدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَرِیَّۃً إِلَی الْحُرَقَاتِ فَنَذِرُوا وَہَرَبُوا وَأَدْرَکْنَا رَجُلاً فَلَمَّا غَشِینَاہُ قَالَ : لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَضَرَبْنَاہُ حَتَّی قَتَلْنَاہُ فَعَرَضَ فِی نَفْسِی مِنْ ذَلِکَ شَیْء ٌ فَذَکَرْتُہُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: مَنْ لَکَ بِلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا قَالَہَا مَخَافَۃَ السِّلاَحِ وَالْقَتْلِ۔ قَالَ: أَفَلاَ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہِ حَتَّی تَعْلَمَ قَالَہَا مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ أَمْ لاَ مَنْ لَکَ بِلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ قَالَ فَمَا زَالَ یَقُولُ حَتَّی وَدِدْتُ أَنِّی لَمْ أُسْلِمْ إِلاَّ یَوْمَئِذٍ
قَالَ أَبُو ظَبْیَانَ قَالَ سَعْدٌ وَأَنَا وَاللَّہِ لاَ أَقْتُلُہُ حَتَّی یَقْتُلَہُ ذُو الْبُطَیْنِ یَعْنِی أُسَامَۃَ فَقَالَ رَجُلٌ : أَلَیْسَ قَدْ قَالَ اللَّہُ {قَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ} قَالَ سَعْدٌ : فَقَدْ قَاتَلْنَاہُمْ حَتَّی لَمْ تَکُنْ فِتْنَۃٌ وَأَنْتَ وَأَصْحَابُکَ تُرِیدُونَ أَنْ نُقَاتِلَ حَتَّی تَکُونَ فِتْنَۃٌ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح]
(١٦٨٠٤) اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرقات کی طرف بھیجا تو وہ لوگ ڈر گئے اور گھبرا گئے۔ ہم نے ایک شخص کو پکڑ لیا تو اس نے لا الہ الا اللہ پڑھ لیا، لیکن ہم نے اسے قتل کردیا تو مجھے اپنے نفس میں خیال محسوس ہوا تو میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : اے اسامہ ! لا الہ الا اللہ سے تجھے یوم قیامت کون بچائے گا ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس نے تو اسلحہ کے ڈر سے کہا تھا فرمایا : کیا تو نے اس کے دل کو پھاڑ کے دیکھا تھا ؟ تجھے اسی لا الہ الا اللہ سے کون بچائے گا ؟ آپ ہمیشہ یہ کہتے رہے یہاں تک کہ میں نے سوچا : کاش ! میں مسلمان ہی آج ہوا ہوتا۔
ابو ظبیان کہتے ہیں کہ حضرت سعد نے فرمایا : واللہ ! میرے قتل کرنے سے پہلے اسامہ نے اسے قتل کردیا تھا تو ایک آدمی کہنے لگا : کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ ” فتنے کے ختم ہونے تک ان سے لڑو۔ “ [البقرۃ ٩٣] حضرت سعد فرماتے ہیں : فتنہ کے ختم ہونے تک تو ہم لڑے تھے فتنہ تو باقی رہا ہی نہیں تھا تو اور تیرے ساتھی تو چاہتے ہیں کہ فتنہ ہو۔