۱۶۸۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا کَہْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی الأَزْہَرِ الضُّبَعِیِّ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ الْبَرَّائِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ صَفْوَانَ کَانَا ذَاتَ یَوْمٍ قَاعِدَیْنِ فِی الْحِجْرِ فَمَرَّ بِہِمَا ابْنُ عُمَرَ وَہُوَ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ أَتُرَاہُ بَقِیَ أَحَدٌ خَیْرٌ مِنْ ہَذَا ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ: ادْعُہُ لَنَا إِذَا قَضَی طَوَافَہُ فَلَمَّا قَضَی طَوَافَہُ وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ أَتَاہُ رَسُولُہُمَا فَقَالَ: ہَذَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَفْوَانَ یَدْعُوَانِکَ فَجَائَ إِلَیْہِمَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَفْوَانَ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تَبَایِعَ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ یَعْنِی ابْنَ الزُّبَیْرِ فَقَدْ بَایَعَ لَہُ أَہْلُ الْعُرُوضِ وَأَہْلُ الْعِرَاقِ وَعَامَّۃُ أَہْلِ الشَّامِ فَقَالَ وَاللَّہِ لاَ أُبَایِعُکُمْ وَأَنْتُمْ وَاضِعُو سُیُوفِکُمْ عَلَی عَوَاتِقِکُمْ تَصَبَّبُ أَیْدِیکُمْ مِنْ دِمَائِ الْمُسْلِمِینَ۔ [صحیح]
(١٦٨٠٨) ابو العالیہ براء کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن صفوان بیٹھے ہوئے تھے تو ابن عمر کا ان سے طواف کرتے ہوئے گزر ہوا تو ان میں سے ایک کہنے لگا کہ کیا اس سے بھی اچھا کوئی آدمی باقی بچا ہے تو دوسرے نے کہا : اسے بلاؤ، جب آپ نے طواف پورا کرلیا اور دو رکعتیں ادا کرلیں تو قاصد نے آپ کو پیغام دیا کہ عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن صفوان آپ کو بلا رہے ہیں۔ آپ آگئے تو عبداللہ بن صفوان نے کہا : اے ابو عبدالرحمن ! آپ امیر المؤمنین عبداللہ بن زبیر کی بیعت کیوں نہیں کرتے ہو ؟ سب لوگوں نے اہل عراق نے اور عام اہل شام نے ان کی بیعت کرلی ہے ؟ تو فرمایا : واللہ میں بیعت نہیں کروں گا، تم نے اپنی تلواریں مسلمانوں کا خون بہانے کے لیے اٹھائی ہیں۔