(۱۶۸۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ وَعَبْدُ الْوَہَّابِ الْخَفَّافُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَالأَشْتَرُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَوْمَ الْجَمَلِ فَقُلْتُ ہَلْ عَہِدَ إِلَیْکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَہْدًا دُونَ الْعَامَّۃِ فَقَالَ : لاَ إِلاَّ ہَذَا وَأَخْرَجَ مِنْ قِرَابِ سَیْفِہِ فَإِذَا فِیہَا الْمُؤْمِنُونَ تَکَافَأُ دِمَاؤُہُمْ یَسْعَی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ وَہُمْ یَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ لاَ یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ وَلاَ ذَو عَہْدٍ فِی عَہْدِہِ۔ [صحیح]
(١٦٨١٣) قیس بن عباد کہتے ہیں : میں اور اشتر جمل والے دن حضرت علی کے پاس آئے۔ میں نے کہا کہ عام عہد کے علاوہ اور کوئی عہد آپ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لیا تھا ؟ فرمایا : نہیں، صرف یہ اور اپنی تلوار نکالی اور فرمایا : مومنوں کے خون برابر ہیں، ان کے ادنی کا ذمہ بھی قبول ہے۔ کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ذمی کو اس کے ذمے میں۔