(۱۶۸۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ فُضَیْلِ بْنِ زَیْدٍ وَکَانَ غَزَا عَلَی عَہْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَبْعَ غَزَوَاتٍ قَالَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : فَلَمَّا رَجَعْنَا تَخَلَّفَ عَبْدٌ مِنْ عَبِیدِ الْمُسْلِمِینَ فَکَتَبَ لَہُمْ أَمَانًا فِی صَحِیفَۃٍ فَرَمَاہُ إِلَیْہِمْ قَالَ فَکَتَبْنَا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ عُمَرُ إِنَّ عَبْدَ الْمُسْلِمِینَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ذِمَّتُہُ ذِمَّتُہُمْ فَأَجَازَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَانَہُ۔ [صحیح]
(١٦٨١٦) فضیل بن زید کہتے ہیں کہ انھوں نے عہد عمر میں سات غزوات کیے۔۔۔ پھر لمبی حدیث ذکر کی اور فرمایا : جب ہم لوٹے تو مسلمانوں کے ایک غلام کو نائب بنایا تھا اور اس نے ان کے لیے صحیفہ میں امان لکھی تھی اور ان کی طرف بھیجی تھی۔ فرماتے ہیں : ہم نے حضرت عمر کو لکھا تو عمر (رض) کی طرف سے جواب ملا کہ جو غلام مسلمانوں کا ہو اور وہ مسلمان ہو تو اس کا ذمہ ٹھیک ہے اور اس کی امان کو جائز قرار دیا۔