(۱۶۸۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُسَدَّدٌ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ قَالَ مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ ہِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَی : أَقْبَلْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَمَعِی رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِیِّینَ أَحَدُہُمَا عَنْ یَمِینِی وَالآخَرُ عَنْ یَسَارِی وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَسْتَاکُ فَکِلاَہُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- سَاکِتٌ فَقَالَ: مَا تَقُولُ یَا أَبَا مُوسَی أَوْ یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ قَیْسٍ؟ ۔ قُلْتُ : وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِی عَلَی مَا فِی أَنْفُسِہِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّہُمَا یَطُلبَانِ الْعَمَلَ قَالَ وَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی سِوَاکِہِ تَحْتَ شَفَتِہِ قَلَصَتْ قَالَ : لَنْ أَسْتَعْمِلَ أَوْ لاَ أَسْتَعْمِلُ عَلَی عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَہُ وَلَکِنِ اذْہَبْ أَنْتَ یَا أَبَا مُوسَی أَوْ یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ قَیْسٍ ۔ فَبَعَثَہُ عَلَی الْیَمَنِ ثُمَّ أَتْبَعَہُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَیْہِ مُعَاذٌ قَالَ انْزِلْ وَأَلْقَی لَہُ وِسَادَۃً وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَہُ مُوثَقٌ قَالَ مَا ہَذَا قَالَ ہَذَا کَانَ یَہُودِیًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ رَاجَعَ دِینَہُ دِینَ السَّوْئِ قَالَ لاَ أَجْلِسُ حَتَّی یُقْتَلَ قَضَائُ اللَّہِ وَرَسُولِہِ -ﷺ- ثَلاَثَ مِرَارٍ وَأَمَرَ بِہِ فَقُتِلَ ثُمَّ تَذَاکَرَا قِیَامَ اللَّیْلِ فَقَالَ أَحَدُہُمَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ أَوْ أَقُومُ وَأَنَامُ وَأَرْجُو فِی نَوْمَتِی مَا أَرْجُو فِی قَوْمَتِی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی قُدَامَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ یَحْیَی۔ [صحیح]
(١٦٨٢٢) ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ میرے ساتھ دو اشعری آدمی اور بھی تھے۔ وہ دونوں میرے دائیں بائیں تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسواک کر رہے تھے، انھوں نے عامل بنانے کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مطالبہ کیا۔ آپ خاموش رہے پھر فرمایا : اے ابو موسیٰ ! تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ دونوں کس لیے آئے ہیں اور ان کا کیا ارادہ ہے۔ فرماتے ہیں : میں مسواک کو آپ کے ہونٹ کی طرف سکڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو خود مانگ کر عامل بنے اسے ہم عامل نہیں بناتے، لیکن اے ابو موسیٰ ! تو یمن جا، پھر یہ حضرت معاذ کے پیچھے گئے، جب معاذ آئے تو فرمایا : آئیے اور ان کے لیے تکیہ رکھا تو ایک آدمی کو دیکھا جو بندھا ہوا تھا۔ پوچھا : یہ کہا ہے ؟ جواب دیا : یہ یہودی تھا مسلمان ہوا لیکن پھر یہودی ہوگیا تو فرمایا : میں تو اسے قتل کرنے تک نہیں بیٹھوں گا ؛کیونکہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کا یہی فیصلہ ہے، اسے قتل کردیا گیا۔ پھر بیٹھے اور قیام اللیل کے بارے میں مذاکرہ کیا تو حضرت معاذ نے فرمایا : میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور اپنی نیند سے اللہ سے اسی کی امید رکھتا ہوں جو قیام میں امید رکھتا ہوں۔