(۱۶۸۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی قِصَّۃِ تَبُوکَ وَمَا کَانَ عَلَی الثَّنِیَّۃِ مِنْ ہَمِّ الْمُنَافِقِینَ أَنْ یَزْحَمُوا فِیہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَمَا کَانَ مِنْ أَقْوَالِہِمْ وَإِطْلاَعُ اللَّہِ سُبْحَانَہُ نَبِیَّہُ -ﷺ- عَلَی سَرَائِرِہِمْ قَالَ فَانْحَدَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الثَّنِیَّۃِ وَقَالَ لِصَاحِبَیْہِ یَعْنِی حُذَیْفَۃَ وَعَمَّارًا : ہَلْ تَدْرُونَ مَا أَرَادَ الْقَوْمُ؟ قَالُوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَرَادُوا أَنْ یَزْحَمُونِی فِی الثَّنِیَّۃِ فَیَطْرَحُونِی مِنْہَا فَقَالاَ أَفَلاَ تَأْمُرُنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَہُمْ إِذَا اجْتَمَعَ إِلَیْکَ النَّاسُ فَقَالَ أَکْرَہُ أَنْ یَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا قَدْ وَضَعَ یَدَہُ فِی أَصْحَابِہِ یَقْتُلُہُمْ۔
ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی دُعَائِہِ إِیَّاہُمْ وَإِخْبَارِہِ إِیَّاہُمْ بِسَرَائِرِہِمْ وَاعْتِرَافِ بَعْضِہِمْ وَتَوْبَتِہِمْ وَقَبُولِہِ مِنْہُمْ مَا دَلَّ عَلَی ہَذَا
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَأَمَرَہُ أَنْ یَدْعُوَ حُصَیْنَ بْنَ نُمَیْرٍ فَقَالَ لَہُ : وَیْحَکَ مَا حَمَلَکَ عَلَی ہَذَا؟ قَالَ : حَمَلَنِی عَلَیْہِ أَنِّی ظَنَنْتُ أَنَّ اللَّہَ لَمْ یُطْلِعْکَ عَلَیْہِ فَأَمَّا إِذْ أَطْلَعَکَ اللَّہُ عَلَیْہِ وَعَلِمْتَہُ فَإِنِّی أَشْہَدُ الْیَوْمَ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ وَأَنْ لَمْ أُؤْمِنْ بِکَ قَطُّ قَبْلَ السَّاعَۃِ یَقِینًا فَأَقَالَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَثْرَتَہُ وَعَفَا عَنْہُ بِقَوْلِہِ الَّذِی قَالَ۔ [ضعیف]
(١٦٨٣٩) ابن اسحاق قصہ تبوک کے بارے میں کہتے ہیں : ثنیہ مقام پر منافقین نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے باخبر کردیا تو آپ ثنیہ مقام سے ہٹ گئے اور اپنے دو ساتھیوں حذیفہ اور عمار کو کہا : کیا تم جانتے ہو قوم نے کیا ارادہ کیا تھا ؟ انھوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا : انھوں نے ثنیہ میں مجھے مارنے کا ارادہ کیا تو دونوں کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! جب لوگ آپ کے پاس وہاں جمع ہو رہے تھے، آپ ہمیں حکم کرتے، ہم ان کو قتل کردیتے تو آپ نے فرمایا کہ مجھے اچھا نہیں لگا کہ لوگ کہیں گے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انپے ساتھیوں کو قتل کروا رہا ہے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ پھر حصین بن نمیر کو بلایا گیا اور اسے کہا گیا : تو برباد ہو تو ایسا کیوں کررہا تھا ؟ کہنے لگا : واللہ مجھے یقین تھا آپ کو پتہ نہیں چلے گا لیکن اللہ نے آپ کو اطلاع دے دی اور مجھے پتہ چل گیا اور میں آج گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں کبھی آپ پر ایمان نہ لاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے معاف کردیا۔