(۱۶۸۷۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ فَخَالَفَنَا بَعْضُ النَّاسِ فِی الْمُرْتَدَّۃِ وَکَانَتْ حُجَّتُہُ شَیْئًا رَوَاہُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی رَزِینٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی الْمَرْأَۃِ تَرْتَدُّ عَنِ الإِسْلاَمِ : تُحْبَسُ وَلاَ تُقْتَلُ فَکَلَّمَنِی بَعْضُ مَنْ یَذْہَبُ ہَذَا الْمَذْہَبَ وَبِحَضْرَتِنَا جَمَاعَۃٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ فَسَأَلْنَاہُمْ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَمَا عَلِمْتُ مِنْہُمْ وَاحِدًا سَکَتَ عَنْ أَنْ قَالَ ہَذَا خَطَأٌ وَالَّذِی رَوَی ہَذَا لَیْسَ مِمَّنْ یُثْبِتُ أَہْلُ الْحَدِیثِ حَدِیثَہُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ رَوَی بَعْضُہُمْ عَنْ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَتَلَ نِسْوَۃً ارْتَدَدْنَ عَنِ الإِسْلاَمِ فَکَیْفَ لَمْ یَصِرْ إِلَیْہِ۔ [صحیح۔ للشافعی]
(١٦٨٧١) امام شافعی فرماتے ہیں کہ مرتدہ کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کی دلیل یہ ابن عباس کی روایت ہے کہ اسے قید کیا جائے قتل نہ کیا جائے۔ اس مذہب کے قائلین میں سے بعض نے اہل علم کی مجلس میں مجھ سے گفتگو کی تو میں نے ان سے اس حدیث کے ثبوت کے بارے میں سوال کیا تو ان میں سے ایک نے بھی بات نہ کی، سب خاموش ہوگئے۔