(۱۶۸۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ التَّنُوخِیِّ : أَنَّ امْرَأَۃً یُقَالُ لَہَا أُمُّ قِرْفَۃَ کَفَرَتْ بَعْدَ إِسْلاَمِہَا فَاسْتَتَابَہَا أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمْ تَتُبْ فَقَتَلَہَا۔ [ضعیف]
قَالَ اللَّیْثُ وَذَاکَ الَّذِی سَمِعْنَا ہُوَ رَأْیِی۔ قَالَ ابْنُ وَہْبٍ وَقَالَ لِی مَالِکٌ مِثْلَ ذَلِکَ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ فَمَا کَانَ لَنَا أَنْ نَحْتَجَّ بِہِ إِذْ کَانَ ضَعِیفًا عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ۔
قَالَ الشَّیْخُ ضَعْفُہُ فِی انْقِطَاعِہِ وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ وَجْہَیْنِ مُرْسَلَیْنِ۔
(١٦٨٧٣) سعید بن عبدالعزیز تنوخی فرماتے ہیں کہ ام قرفہ نامی عورت ارتداد کا شکار ہوئی۔ حضرت ابوبکر نے اسے توبہ کا کہا، اس نے انکار کیا تو آپ نے اسے قتل کروا دیا۔
امام لیث اور امام مالک و شافعی کا بھی یہی مذہب ہے۔