(۱۶۸۸۸) قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ قَدْ رُوِیَ فِی التَّأَنِّی بِہِ حَدِیثٌ آخَرُ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا نَزَلْنَا عَلَی تُسْتَرَ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الْفَتْحِ وَفِی قُدُومِہِ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ عُمَرُ : یَا أَنَسُ مَا فَعَلَ الرَّہْطُ السِّتَّۃُ مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ الَّذِینَ ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ فَلَحِقُوا بِالْمُشْرِکِینَ؟ قَالَ فَأَخَذْتُ بِہِ فِی حَدِیثٍ آخَرَ لِیَشْغَلَہُ عَنْہُمْ قَالَ مَا فَعَلَ الرَّہْطُ السِّتَّۃُ الَّذِینَ ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ فَلَحِقُوا بِالْمُشْرِکِینَ مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ قَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قُتِلُوا فِی الْمَعْرَکَۃِ قَالَ : إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔ قُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَہَلْ کَانَ سَبِیلُہُمْ إِلاَّ الْقَتْلَ؟ قَالَ : نَعَمْ کُنْتُ أَعْرِضُ عَلَیْہِمْ أَنْ یَدْخُلُوا الإِسْلاَمِ فَإِنْ أَبَوُا اسْتَوْدَعْتُہُمُ السِّجْنَ۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ أَیْضًا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عن دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ۔ [ضعیف]
(١٦٨٨٨) حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب ہم تستر پر اترے۔۔۔ پھر فتح کے بارے میں لمبی حدیث ذکر فرمائی اور فرمایا کہ ہم حضرت عمر (رض) کے پاس آئے تو انھوں نے فرمایا : اے انس ! ان بکر بن وائل کے چھ لوگوں کا کیا بنا جو مرتد ہوئے تھے ؟ کہتے ہیں : میں نے انھیں دوسری بات میں مشغول کرنا چاہا لیکن انھوں نے پھر یہی سوال کرلیا تو میں نے کہا : وہ معرکہ میں مارے گئے۔ کہا : ” انا للہ و انا الیہ راجعون۔ “ میں نے کہا : اے امیر امؤمنین ! کیا کوئی اور بھی ان کا راستہ تھا ؟ فرمایا : ہاں میں ان پر اسلام پیش کرتا کہ وہ اسے قبول کرلیں۔ اگر انکار کرتے تو قید میں ڈال دیتا۔