(۱۶۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الشَّافِعِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ یَقُولُ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِیَّ صَوْتِہِ وَلاَ نَفْقَہُ مَا یَقُولُ حَتَّی دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَإِذَا ہُوَ یَسْأَلُ عَنِ الإِسْلاَمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ))۔ فَقَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُنَّ؟ قَالَ : ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ))۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَصِیَامُ شَہْرِ رَمَضَانَ))۔ قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُ؟ قَالَ : ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ))۔ قَالَ: وَذَکَرَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الزَّکَاۃَ قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہَا؟ قَالَ : ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ))۔ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَہُوَ یَقُولُ: وَاللَّہِ لاَ أَزِیدُ عَلَی ہَذَا وَلاَ أَنْقُصُ مِنْہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ))
قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی حَدِیثِہِ وَذَکَرَ الصَّدَقَۃَ فَقَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہَا۔
مُخَرَّجُ فِی الصَّحِیحِینِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۶]
(١٦٩١) ابو سہیل بن مالک کے باپ نے طلحہ بن عبیداللہ سے سنا کہ اہل نجدکا ایک شخص پرا گندہ سر والا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھتے نہیں تھے وہ کیا کہہ رہا ہے، یہاں تک وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوگیا اور اسلام کے متعلق سوال کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” دن اور رات میں پانچ نمازیں۔ اس نے کہا : کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں مگر یہ کہ تو نفل پڑھے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمضان کے مہینے کے روزے۔ اس نے کہا : کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں مگر یہ تو نفلی روزے رکھے۔ راوی کہتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے زکوۃ کا بھی ذکر کیا۔ اس نے کہا : کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مگر یہ تو نفلی صدقہ دے۔ آدمی واپس پلٹا اور کہہ رہا تھا : اللہ کی قسم ! نہ میں اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کم۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کامیاب ہوگیا اگر اس نے سچ کہا ہے۔