(۱۶۹۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ {وَاللاَّتِی یَأْتِینَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِسَائِکُمْ} یَعْنِی الزِّنَا فِی قَوْلِہِ {فَآذُوہُمَا} یَعْنِی سَبًّا ثُمَّ نَسَخَتْہَا {الزَّانِیَۃُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ} وَفِی قَوْلِہِ {أَوْ یَجْعَلَ اللَّہُ لَہُنَّ سَبِیلاً} قَالَ : السَّبِیلُ : الْحَدُّ۔ [صحیح]
(١٦٩٠٥) مجاہد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : { وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآئِکُمْ۔۔۔} [النساء ١٥] کے بارے میں فرماتے ہیں : یعنی زنا اور ” فَاٰذُوْھُمَا “ یعنی قید میں ڈال کر، پھر { الزَّانِیَۃُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِأَۃَ جَلْدَۃٍ } [النور ٢] کے ساتھ وہ منسوخ کردی گئیں اور اللہ کے اس فرمان { اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا ۔ } [النساء ١٥] میں سبیل سے مراد حد ہے۔