hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 16934

.

سنن البيهقي

16934
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۹۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ غَیْلاَنَ بْنِ جَامِعٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ طَہِّرْنِی۔ فَقَالَ : وَیْحَکَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ وَتُبْ إِلَیْہِ ۔ قَالَ : فَرَجَعَ غَیْرَ بَعِیدٍ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ طَہِّرْنِی فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : وَیْحَکَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ وَتُبْ إِلَیْہِ ۔ قَالَ : فَرَجَعَ غَیْرَ بَعِیدٍ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ طَہِّرْنِی۔فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- مِثْلَ ذَلِکَ حَتَّی إِذَا کَانَتِ الرَّابِعَۃُ قَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : مِمَّ أُطَہِّرُکَ؟ ۔ فَقَالَ : مِنَ الزِّنَا فَسَأَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَبِہِ جُنُونٌ؟ ۔ فَأُخْبِرَ أَنْ لَیْسَ بِمَجْنُونٍ فَقَالَ : أَشَرِبَ خَمْرًا؟ ۔ فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْکَہَہُ فَلَمْ یَجِدْ مِنْہُ رِیحَ خَمْرٍ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَثَیِّبٌ أَثَیِّبٌ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ۔ فَأَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ فَکَانَ النَّاسُ فِیہِ فَرِیقَیْنِ تَقُولُ فِرْقَۃٌ لَقَدْ ہَلَکَ مَاعِزٌ عَلَی أَسْوَإِ عَمَلِہِ لَقَدْ أَحَاطَتْ بِہِ خَطِیئَتُہُ وَقَائِلٌ یَقُولُ أَتَوْبَۃٌ أَفْضَلُ مِنْ تَوْبَۃِ مَاعِزٍ أَنْ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَوَضَعَ یَدَہُ فِی یَدَیْہِ فَقَالَ اقْتُلْنِی بِالْحِجَارَۃِ قَالَ فَلَبِثُوا بِذَلِکَ یَوْمَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃً ثُمَّ جَائَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَہُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ ۔ قَالَ فَقَالُوا : یَغْفِرُ اللَّہُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : لَقَدْ تَابَ تَوْبَۃً لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ أُمَّۃٍ لَوَسِعَتْہَا ۔ قَالَ : ثُمَّ جَائَ تْہُ امْرَأَۃٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الأَزْدِ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ طَہِّرْنِی قَالَ : وَیْحَکِ ارْجِعِی فَاسْتَغْفِرِی اللَّہَ وَتُوبِی إِلَیْہِ ۔ قَالَتْ : لَعَلَّکَ تُرِیدُ أَنْ تُرَدِّدَنِی کَمَا رَدَّدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ۔قَالَ : وَمَا ذَاکِ؟ ۔ قَالَتْ : إِنَّہَا حُبْلَی مِنَ الزِّنَا فَقَالَ : أَثَیِّبٌ أَنْتِ؟ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَ : إِذًا لاَ نَرْجُمَکِ حَتَّی تَضَعِی مَا فِی بَطْنِکِ ۔ قَالَ : فَکَفِلَہَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ حَتَّی وَضَعَتْ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِیَّۃُ۔ فَقَالَ : إِذًا لاَ نَرْجُمَہَا وَنَدَعَ وَلَدَہَا صَغِیرًا لَیْسَ لَہُ مَنْ یُرْضِعُہُ ۔ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ إِلَیَّ رَضَاعُہُ یَا نَبِیَّ اللَّہِ فَرَجَمَہَا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْلَی۔ [صحیح]
(١٦٩٢٨) سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے پاک کردیجیے تو آپ نے فرمایا : تو برباد ہو، جا اللہ سے توبہ کرلے۔ اس نے تین مرتبہ یہی کہا آپ نے تین مرتبہ یہی جواب دیا۔ جب چوتھی بار اس نے کہا تو آپ نے پوچھا : کس چیز سے تجھے پاک کروں ؟ کہا : زنا سے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : پاگل ہے ؟ کہا : نہیں پوچھا : شراب پی ہوئی ہے ؟ ایک شخص کھڑا ہوا، منہ سونگھا۔ شراب بھی نہیں پی ہوئی تھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : شادی شدہ ہو ؟ کہا : ہاں تو آپ کے حکم پر اسے رجم کردیا گیا۔ لوگوں کے دو گروہ ہوگئے۔ ایک کہنے لگا : ماعز تو برے عمل پر مرا ہے۔ دوسرے کہنے لگے : اس جیسی توبہ تو کسی کی ہے ہی نہیں کہ اس نے اپنی ہاتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں دے دیا تو وہ بیٹھے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگئے۔ آپ نے فرمایا : ماعز کے لیے استغفار کی دعا کرو، لوگوں نے دعا کی۔ پھر آپ نے فرمایا : اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ساری امت پر تقسیم کی جائے تو سب کو کافی ہوجائے۔ پھر ایک غامدیہ عورت آئی تو اس نے بھی اقرار کیا۔ آپ نے اسے بھی ماعز والا جواب دیا کہ جا توبہ کرلے تو کہنے لگی : آپ مجھے بھی ماعز کی طرح لوٹانا چاہتے ہیں تو آپ نے پوچھا : کیا ہے ؟ جواب دیا کہ وہ زنا سے حاملہ ہے تو آپ نے پوچھا : شادی شدہ ہے ؟ کہا : ہاں تو آپ نے فرمایا : وضع حمل تک ہم تجھے رجم نہیں کرسکتے تو اس کی کفالت ایک شخص نے کی۔ جب بچہ جن دیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وہ شخص آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا : ابھی رجم نہیں کرسکتے، بچے کی پرورش کون کرے گا تو ایک انصاری کھڑا ہوا اور بچے کی پرورش کی ذمہ داری اپنے سر لی تو آپ نے اسے رجم کردیا۔