(۱۶۹۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ الأَشَجُّ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : مَرُّوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِیَہُودِیٍّ قَدْ جُلِدَ وَحُمِّمَ وَجْہُہُ فَسَأَلَ الْیَہُودَ : مَنْ عَالِمُکُمْ؟ ۔فَقَالُوا : فُلاَنُ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَجَائَ فَقَالَ : مَا تَجِدُونَ حَدَّ الزِّنَا فِی کِتَابِکُمْ؟ ۔ فَقَالُوا : نَجِدُہُ الرَّجْمَ وَلَکِنْ فَشَا الزِّنَا فِی أَشْرَافِنَا فَکَانَ الشَّرِیفُ إِذَا زَنَی لَمْ یُرْجَمْ وَإِذَا زَنَی السَّفِیہُ رُجِمَ فَاصْطَلَحْنَا عَلَی الْجَلْدِ وَالتَّحْمِیمِ فَأَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِہِ فَرُجِمَ ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أُشْہِدُکَ أَنِّی أَوَّلُ مَنْ أَحْیَا سُنَّۃً أَمَاتُوہَا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ وَأَبِی سَعِیدٍ الأَشَجِّ۔ [صحیح]
(١٦٩٣٠) براء بن عازب کہتے ہیں کہ لوگ ایک شخص کو لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرے جس کو کوڑے لگائے گئے تھے اور منہ کا لاکر کے گھمایا جا رہا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں سے پوچھا : تمہارا عالم کون ہے ؟ انھوں نے کہا : فلاں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف کسی کو بھیجا، وہ آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم اپنی کتاب میں زنا کی حد کیا پاتے ہو ؟ کہا : رجم لیکن زنا ہمارے اشراف میں پھیل گیا تو جب کوئی بڑا زنا کرتا ہے تو اسے رجم نہیں کیا جاتا اور جب کوئی غریب زنا کرے تو اسے رجم کیا جاتا ہے۔ اسے ہم رجم کے بدلے کوڑے اور منہ کالا کرنے کی سزا دیتے ہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے رجم کا حکم دے دیا۔ اسے رجم کردیا گیا اور پھر فرمایا : اے اللہ ! گواہ رہنا، میں نے ان کی ایک فوت شدہ سنت کو زندہ کیا ہے۔