(۱۶۹۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَنَّ أَبَا قِلاَبَۃَ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ : أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ جُہَیْنَۃَ أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- وَہِیَ حُبْلَی مِنَ الزِّنَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَلِیَّہَا أَنْ یُحْسِنَ إِلَیْہَا فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَہَا فَائْتِنِی بِہَا فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِہَا فَشُکَّتْ عَلَیْہَا ثِیَابُہَا ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّی عَلَیْہَا فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتُصَلِّی عَلَیْہَا وَقَدْ زَنَتْ فَقَالَ : لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ لَوَسِعَتْہُمْ وَہَلْ وَجَدْتَ شَیْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِہَا ۔
(١٦٩٥١) عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ جہینہ قبیلہ کی ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور وہ زنا سے حاملہ تھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی ولی کو کہا کہ اس کے ساتھ احسان کر۔ جب یہ وضع حمل کر دے، پھر لے کر آنا تو اس نے ایسے کیا۔ پھر جب وہ دوبارہ آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے رجم کا حکم دے دیا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر نماز بھی پڑھی۔ حضرت عمر فرمانے لگے : یا رسول اللہ ! اس نے تو زنا کیا تھا اور آپ اس پر نماز پڑھ رہے ہیں ؟ فرمایا : اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر تمام اہل مدینہ پر تقسیم کی جائے تو ان کو کافی ہوجائے۔ کیا تو نے اس سے بھی افضل کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنے نفس کو اللہ کے لیے پیش کردیا۔ [صحیح ]