(۱۶۹۵۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ کَیْسَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ غَنَّامٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ نُعَیْمٍ یَعْنِی ابْنَ ہَزَّالٍ الأَسْلَمِیَّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَائَ مَاعِزٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی زَنَیْتُ فَأَقِمْ فِیَّ کِتَابَ اللَّہِ۔ فَأَعْرَضَ عَنْہُ ثُمَّ قَالَ : إِنِّی زَنَیْتُ فَأَقِمْ فِیَّ کِتَابَ اللَّہِ۔ فَأَعْرَضَ عَنْہُ حَتَّی ذَکَرَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَقَالَ : اذْہَبُوا بِہِ فَارْجُمُوہُ ۔ فَلَمَّا مَسَّتْہُ الْحِجَارَۃُ جَزِعَ فَاشْتَدَّ فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُنَیْسٍ مِنْ بَادِیَتِہِ فَرَمَاہُ بِوَظِیفِ حِمَارٍ فَصَرَعَہُ وَرَمَاہُ النَّاسُ حَتَّی قَتَلُوہُ فَذُکِرَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فِرَارَہُ فَقَالَ : ہَلاَّ تَرَکْتُمُوہُ فَلَعَلَّہُ یَتُوبُ فَیَتُوبَ اللَّہُ عَلَیْہِ یَا ہَزَّالُ لَوْ سَتَرْتَہُ بِثَوْبِکَ کَانَ خَیْرًا لَکَ مِمَّا صَنَعْتَ ۔
وَقَالَ غَیْرُہُ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ نُعَیْمٍ : بِوَظِیفِ بَعِیرٍ۔ وَقَالَ بَعْضُہُمْ : بِلَحْیِ بَعِیرٍ۔ [حسن]
(١٦٩٥٨) ہزال اسلمی کہتے ہیں کہ ماعز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے زنا کرلیا ہے۔ مجھ پر کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ آپ نے اس سے اعراض کیا یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ اعتراف کیا تو آپ نے فرمایا : جاؤ اسے رجم کر دو ۔ جب اس پر پتھر پڑے تو وہ تکلیف سے بھاگا تو عبداللہ بن انیس نے اسے گدھے کی ہڈی ماری تو وہ چیخا اور لوگوں نے بھی مارے یہاں تک کہ وہ مرگیا۔ جب اس کے بھاگنے کی بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتائی گئی تو آپ نے فرمایا : ” تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا کہ وہ اللہ سے توبہ کرلیتا۔ “ اے ہزال ! اگر تو اسے کپڑے سے ڈھانپ لیتا تو تیرے لیے یہ زیادہ بہتر تھا اس سے جو تو نے کیا۔