(۱۶۹۷۴) قَالَ عَلِیٌّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ عَنْ صَفِیَّۃَ قَالَ عَلِیٌّ وَہِیَ صَفِیَّۃُ بِنْتُ أَبِی عُبَیْدٍ : أَنَّ رَجُلاً أَضَافَ رَجُلاً فَافْتَضَّ أُخْتَہُ فَجَائَ أَخُوہَا إِلَی أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَأَقَرَّ بِہِ فَقَالَ : أَبِکْرٌ أَمْ ثَیِّبٌ؟ قَالَ : بِکْرٌ فَجَلَدَہُ مِائَۃً وَنَفَاہُ إِلَی فَدَکٍ قَالَ ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ تَزَوَّجَ الْمَرْأَۃَ بَعْدُ قَالَ ثُمَّ قُتِلَ الرَّجُلُ یَوْمَ الْیَمَامَۃِ۔
قَالَ أَحْمَدُ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ مَالِکٌ وَغَیْرُہُ عَنْ نَافِعٍ فِی النَّفْیِ۔
(١٦٩٧٤) صفیہ کہتی ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : صفیہ بنت ابی عبید کہتی ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے کی مہمان نوازی کی۔ وہ اس کی بہن پر واقع ہوگیا تو اس کا بھائی حضرت ابوبکر کے پاس آگیا۔ آپ نے ان سے معلوم کروایاتو انھوں نے بھی اقرار کرلیا تو پوچھا : شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ؟ جواب ملاغیر شادی شدہ تو آپ نے انھیں سو کوڑے لگوائے اور فدک کی طرف جلا وطن کردیا، پھر اس آدمی نے بعد میں اس عورت سے شادی کرلی اور وہ آدمی یمامہ کے دن مقتول ہوا۔ [صحیح ]