(۱۷۰۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ : أَنَّ أَبَا بَکْرَۃَ وَنَافِعَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ کَلْدَۃَ وَشِبْلَ بْنَ مَعْبَدٍ شَہِدُوا عَلَی الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ أَنَّہُمْ رَأَوْہُ یُولِجُہُ وَیُخْرِجُہُ وَکَانَ زِیَادٌ رَابِعَہُمْ وَہُوَ الَّذِی أَفْسَدَ عَلَیْہِمْ فَأَمَّا الثَّلاَثَۃُ فَشَہِدُوا بِذَلِکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرَۃَ : وَاللَّہِ لَکَأَنِّی بِأَثَرِ جُدَرِیٍّ فِی فَخِذِہَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ رَأَی زِیَادًا إِنِّی لأَرَی غُلاَمًا کَیِّسًا لاَ یَقُولُ إِلاَّ حَقًّا وَلَمْ یَکُنْ لِیَکْتُمَنِی شَیْئًا۔ فَقَالَ زِیَادٌ : لَمْ أَرَ مَا قَالَ ہَؤُلاَئِ وَلَکِنِّی قَدْ رَأَیْتُ رِیبَۃً وَسَمِعْتُ نَفَسًا عَالِیًا۔ قَالَ : فَجَلَدَہُمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَخَلَّی عَنْ زِیَادٍ۔ [ضعیف]
وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مَوْصُولاً۔
وَفِی رِوَایَۃِ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ : أَنَّ أَبَا بَکْرَۃَ وَزِیَادًا وَنَافِعًا وَشِبْلَ بْنَ مَعْبَدٍ کَانُوا فِی غُرْفَۃٍ وَالْمُغِیرَۃُ فِی أَسْفَلِ الدَّارِ فَہَبَّتْ رِیحٌ فَفَتَحَتِ الْبَابَ وَرَفَعَتِ السِّتْرَ فَإِذَا الْمُغِیرَۃُ بَیْنَ رِجْلَیْہَا فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ قَدِ ابْتُلِینَا فَذَکَرَ الْقِصَّۃَ قَالَ : فَشَہِدَ أَبُو بَکْرَۃَ وَنَافِعٌ وَشِبْلٌ وَقَالَ زِیَادٌ لاَ أَدْرِی نَکَحَہَا أَمْ لاَ فَجَلَدَہُمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلاَّ زِیَادًا فَقَالَ أَبُو بَکْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَلَیْسَ قَدْ جَلَدْتُمُونِی؟ قَالَ : بَلَی۔ قَالَ : فَأَنَا أَشْہَدُ بِاللَّہِ لَقَدْ فَعَلَ۔ فَأَرَادَ عُمَرُ أَنْ یَجْلِدَہُ أَیْضًا فَقَالَ عَلِیٌّ : إِنْ کَانَتْ شَہَادَۃُ أَبِی بَکْرَۃَ شَہَادَۃَ رَجُلَیْنِ فَارْجُمْ صَاحِبَکَ وَإِلاَّ فَقَدْ جَلَدْتُمُوہُ یَعْنِی لاَ یُجْلَدُ ثَانِیًا بِإِعَادَتِہِ الْقَذْفَ۔
(١٧٠٤٣) قتادہ کہتے ہیں کہ ابو بکرہ، نافع بن حارث، اور شبل بن معبد نے مغیرہ بن شعبہ پر گواہی دی کہ انھوں نے ان کو داخل کرتے اور نکالتے دیکھا ہے۔ زیاد چوتھا گواہ تھا۔ تینوں نے گواہی دے دی۔ میں نے اس کے نشان بھی دیکھے اس کی ران میں حضرت عمر نے جب زیاد کو دیکھا تو فرمایا : یہ بچہ اچھا ہے یہ حق بات ہی کہے گا اور مجھے سے کچھ چھپائے گا بھی نہیں تو زیاد نے کہا : میں نے اس حالت میں تو نہیں دیکھا جو یہ بتا رہے ہیں لیکن میں نے مشکوک حالت میں دیکھا ہے اور ان کے سانس پھولے ہوئے تھے تو حضرت عمر نے تینوں کو حد قذف لگائی اور زیاد کو چھوڑ دیا۔
اور یہ روایت ان الفاظ سے موصولا بھی آئی ہے کہ وہ چاروں ایک کمرے میں تھے اور زیاد گھر کے نچلے حصے میں۔ ہوا آئی اس نے دروازہ کھول دیا اور پردہ اٹھ گیا تو کیا دیکھا مغیرہ دو ٹانگوں کے درمیان میں ہیں، پھر پورا وہ قصہ جو حدیث نمبر ١٧٠٤٢ میں گزرا ہے۔