(۱۷۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمِشٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَزِینٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو: سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ وَقْتِ الصَّلاَۃِ فَقَالَ : ((وَقْتُ صَلاَۃِ الْفَجْرِ مَا لَمْ یَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ ، وَوَقْتُ صَلاَۃِ الظُّہْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَائِ مَا لَمْ یَحْضُرِ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ صَلاَۃِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَیَسْقُطْ قَرْنُہَا الأَوَّلُ ، وَوَقْتُ صَلاَۃِ الْمَغْرِبِ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مَا لَمْ یَسْقُطِ الشَّفَقُ ، وَوَقْتُ صَلاَۃِ الْعِشَائِ إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۱۲]
(١٧٠٦) سیدنا عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نماز کے وقت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” فجر کی نماز کا وقت جب پہلے سورج کا کنارہ طلوع نہ ہو اور ظہر کی نماز کا وقت جب آسمان کے درمیان سے سورج ڈھل جائے اور جب تک عصرکا وقت نہ ہو اور عصر کی نماز کا وقت جب تک سورج زرد نہ ہو اور اس کا پیلا کنارہ غروب نہ ہوجائے اور مغرب کی نماز کا وقت جب سورج غروب ہوجائے اور جب تک سرخی ختم نہ ہو اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔