(۱۷۰۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِی إِدْرِیسَ فِی قِصَّۃِ سَوْسَنَ قَالَ : کَانَ دَانِیَالُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَوَّلَ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الشُّہُودِ فَقَالَ لأَحَدِہِمَا : مَا الَّذِی رَأَیْتَ وَمَا الَّذِی شَہِدْتَہُ؟ قَالَ : أَشْہَدُ أَنِّی رَأَیْتُ سَوْسَنَ تَزْنِی فِی الْبُسْتَانِ بِرَجُلٍ شَابٍّ۔
قَالَ : فِی أَیِّ مَکَانٍ؟ قَالَ : تَحْتَ شَجَرَۃِ الْکُمِّثْرَی ثُمَّ دَعَا بِالآخَرِ فَقَالَ : بِمَا تَشْہَدُ؟ قَالَ : أَشْہَدُ أَنِّی أَبْصَرْتُ سَوْسَنَ تَزْنِی فِی الْبُسْتَانِ تَحْتَ شَجَرَۃِ التُّفَّاحِ۔ قَالَ فَدَعَا اللَّہَ عَلَیْہِمَا فَجَائَ تْ مِنَ السَّمَائِ نَارٌ فَأَحْرَقَتْہُمَا وَأَبْرَأَ اللَّہُ سَوْسَنَ۔ [صحیح]
(١٧٠٤٥) ابو ادریس قصہ سو سن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ دانیال (علیہ السلام) وہ پہلے ہیں کہ جنہوں نے گواہی میں فرق کیا۔ ان میں سے ایک کو کہا کہ تو نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا : میں نے سو سن کو دیکھا کہ وہ باغ میں دوسرے آدمی سے زنا کروا رہی تھیپوچھا : کس جگہ ؟ کہا : ناشپاتی کے درخت کے نیچے، پھر دوسرے شخص کو بلایا اس سے بھی پوچھا تو اس نے بھی یہی گواہی دی۔ پھر اس سے پوچھا کس جگہ ؟ اس نے کہا : سیب کے درخت کے نیچے تو دانیال (علیہ السلام) نے ان دونوں کے لیے بددعا کی تو آسمان سے آگ آئی۔ ان دونوں کو جلا دیا اور سو سن بری ہوگئی۔