(۱۷۰۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ الْکَرَابِیسِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ بِامْرَأَۃٍ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ قَالُوا بَغَتْ۔ قَالَتْ : إِنِّی کُنْتُ نَائِمَۃً فَلَمْ أَسْتَیْقِظْ إِلاَّ بِرَجُلٍ رَمَی فِیَّ مِثْلَ الشِّہَابِ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَمَانِیَۃٌ نُؤُومَۃٌ شَابَّۃٌ۔ فَخَلَّی عَنْہَا وَمَتَّعَہَا۔ [صحیح]
(١٧٠٤٧) ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک یمنی عورت لائی گئی۔ انھوں نے کہا : یہ زانیہ ہے، وہ کہنے لگی : میں سوئی ہوئی تھی میں بیدار ہوئی تو ایک شخص نے شعلے کی سی تیزی سے میرے ساتھ یہ کام کرلیا۔ حضرت عمر نے فرمایا : یمانیہ بڑی گہری نیند والی ہیں، اسے چھوڑ دیا اور کچھ فائدہ بھی دے دیا۔