(۱۷۰۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ یَحْیَی بْنَ حَاطِبٍ حَدَّثَہُ قَالَ : تُوُفِّیَ حَاطِبٌ فَأُعْتِقَ مَنْ صَلَّی مِنْ رَقِیقِہِ وَصَامَ وَکَانَتْ لَہُ أَمَۃٌ نُوبِیَّۃٌ قَدْ صَلَّتْ وَصَامَتْ وَہِیَ أَعْجَمِیَّۃٌ لَمْ تَفْقَہْ فَلَمْ تَرُعْہُ إِلاَّ بِحَبَلِہَا وَکَانَتْ ثَیِّبًا فَذَہَبَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَحَدَّثَہُ فَقَالَ : لأَنْتَ الرَّجُلُ لاَ تَأْتِی بِخَیْرٍ فَأَفْزَعَہُ ذَلِکَ فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَحَبَلْتِ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ مِنْ مَرْغُوشٍ بِدِرْہَمَیْنِ فَإِذَا ہِیَ تَسْتَہِلُّ بِذَلِکَ لاَ تَکْتُمُہُ قَالَ وَصَادَفَ عَلِیًّا وَعُثْمَانَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَقَالَ : أَشِیرُوا عَلَیَّ وَکَانَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَالِسًا فَاضْطَجَعَ فَقَالَ عَلِیٌّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ : قَدْ وَقَعَ عَلَیْہَا الْحَدُّ۔ فَقَالَ : أَشِرْ عَلَیَّ یَا عُثْمَانُ۔ فَقَالَ : قَدْ أَشَارَ عَلَیْکَ أَخَوَاکَ۔ قَالَ : أَشِرْ عَلَیَّ أَنْتَ ۔ قَالَ : أُرَاہَا تَسْتَہِلُّ بِہِ کَأَنَّہَا لاَ تَعْلَمُہُ وَلَیْسَ الْحَدُّ إِلاَّ عَلَی مَنْ عَلِمَہُ۔ فَقَالَ : صَدَقْتَ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا الْحَدُّ إِلاَّ عَلَی مَنْ عَلِمَہُ فَجَلَدَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ مِائَۃً وَغَرَّبَہَا عَامًا۔ [صحیح]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : کَانَ حَدُّہَا الرَّجْمَ فَکَأَنَّہُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَرَأَ عَنْہَا حَدَّہَا لِلشُّبْہَۃِ بِالْجَہَالَۃِ وَجَلَدَہَا وَغَرَّبَہَا تَعْزِیرًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(١٧٠٦٥) یحییٰ بن حاطب کہتے ہیں کہ جب حاطب فوت ہوگئے تو ان کے غلاموں میں سے جو نماز پڑھتے تھے اور روزے رکھتے تھے ان کو آزاد کردیا گیا۔ ان کی ایک نوبیہ لونڈی تھی جو نماز روزہ کرتی تھی جو عجمی تھی اور سمجھتی نہیں تھی اور اس کو چپ اس کے حمل نے کروایا تھا اور یہ شادی شدہ تھی۔ یہ عمر کے پاس گئے اور کہا : آپ بھلے آدمی ہیں، اس کی مدد کیجیے تو حضرت عمر نے ان کی طرف ایک آدمی بھیجا، اس نے پوچھا : تو حاملہ ہے ؟ کہا : ہاں مرغوش سے دو درہم کے بدلے تو اچانک وہ چیخنے لگی تو اسے چھپا نہیں۔ فرماتے ہیں کہ حضرت علی، عثمان اور عبدالرحمن کو مشورہ کے لیے بلایا تو علی اور عبدالرحمن کہنے لگے : حد واقع ہوگئی تو حضرت عثمان کو کہا کہ مشورہ دو ۔ انھوں نے کہا : ان دونوں نے دے دیا ہے، کہا : نہیں آپ دیں تو کہنے لگے : وہ اس لیے چیخی تھی کہ شاید وہ جانتی نہیں تھی کہ اس پر حد ہے جو جان بوجھ کر کرے تو عمر نے فرمایا : آپ سچ کہتے ہو حد اس پر ہے جس کو علم ہو تو عمر نے اس کو کوڑے مارے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کردیا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس سے حد کو جہالت کی وجہ سے ساقط کردیا اور جو سزا دی وہ تعزیراً تھی۔