(۱۷۰۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ وَالأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی عَالَجْتُ امْرَأَۃً فِی أَقْصَی الْمَدِینَۃِ وَإِنِّی أَصَبْتُ مِنْہَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّہَا فَأَنَا ہَذَا فَاقْضِ فِیَّ مَا شِئْتَ۔ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَقَدْ سَتَرَکَ اللَّہُ لَوْ سَتَرْتَ نَفْسَکَ۔ قَالَ : وَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ النَّبِیُّ -ﷺ- شَیْئًا فَقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- رَجُلاً دَعَاہُ فَتَلاَ عَلَیْہِ ہَذِہِ الآیَۃَ {أَقِمِ الصَّلاَۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْرَی لِلذَّاکِرِینَ} [ہود: ۱۱۴] فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ ہَذَا لَہُ خَاصَّۃً؟ قَالَ : بَلْ لِلنَّاسِ کَافَّۃً ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح]
(١٧٠٨٥) عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : یا رسول اللہ ! مدینہ کے کنارے میں میں ایک عورت کا علاج کرتا تھا ۔ میں نے اس سے جماع نہیں کیا۔ بس بوس و کنار کیا ہے تو میرے بارے میں فیصلہ فرمائیے تو حضرت عمر نے فرمایا : تو برباد ہو جب اللہ نے تجھ پر پردہ ڈالا تھا تو تو نے اپنے آپ پر پردہ کیوں نہ ڈالا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے، وہ شخص چلا گیا تو آپ نے اسے دوبارہ بلوایا اور یہ آیت نازل ہوئی۔ آگے سابقہ روایت۔