(۱۷۰۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : إِذَا زَنَی الْعَبْدُ أَوِ الأَمَۃُ فَعَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا فَعَلَ ذَلِکَ جَلْدُ خَمْسِینَ وَلاَ تَغْرِیبَ عَلَی مَمْلُوکٍ وَکَانُوا یَقُولُونَ : مَنْ أَصَابَ حَدًّا وَہُوَ مَمْلُوکٌ فَلَمْ یُقَمْ عَلَیْہِ حَتَّی عَتَقَ فَعَلَیْہِ حَدُّ الْمَمْلُوکِ۔ [ضعیف]
(١٧٠٩٧) ابو زناد فقہاء اہل مدینہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب غلام یا لونڈی زنا کرلے تو ان میں سے ہر ایک پر پچاس کوڑے ہیں، جلا وطنی ان پر نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو اسے پہنچا ہے وہ مملوک ہے لہٰذا اس پر غلام ہی کی حد ہے۔