(۱۷۱۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ بِبُخَارَی حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِیبٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ قُرَیْشًا أَہَمَّہُمْ شَأْنُ الْمَرْأَۃِ الْمَخْزُومِیَّۃِ الَّتِی سَرَقَتْ فَقَالُوا : مَنْ یُکَلِّمُ فِیہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالُوا : وَمَنْ یَجْتَرِئُ عَلَیْہِ إِلاَّ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَکَلَّمَہُ أُسَامَۃُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَتَشْفَعُ فِی حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّہِ؟ ۔ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّمَا ہَلَکَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ أَنَّہُمْ کَانُوا إِذَا سَرَقَ فِیہِمُ الشَّرِیفُ تَرَکُوہُ وَإِذَا سَرَقَ فِیہِمُ الضَّعِیفُ أَقَامُوا عَلَیْہِ الْحَدَّ وَایْمُ اللَّہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَہَا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سُلَیْمَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَابْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح]
(١٧١٥٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ سردارانِ قریش میں سے ایک معزز عورت نے چوری کرلی جو بنو مخزوم سے تھے تو وہ کہنے لگے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کون بات کرے گا ؟ تو انھوں نے کہا : اتنی ہمت صرف اسامہ بن زید (رض) کرسکتے ہیں کیونکہ وہ محبوب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ جب حضرت اسامہ (رض) نے سفارش کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اللہ کی حدود میں سفارش کرتا ہے ؟ اے اسامہ ! اور پھر آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم سے پہلے لوگوں کی ہلاکت کا سبب یہی تھا جب ان میں سے کوئی بڑا چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چوری کرتی تو بھی میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔