(۱۷۱۷۸) فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ہَذَا رَأْیٌ مِنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو فِی رِوَایَۃِ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ وَالْمَجَانُّ قَدِیمًا وَحَدِیثًا سِلَعٌ یَکُونُ ثَمَنَ عَشْرَۃٍ وَمِائَۃٍ وَدِرْہَمَیْنِ فَإِذَا قَطَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی رُبُعِ دِینَارٍ قَطَعَ فِی أَکْثَرَ مِنْہُ وَأَنْتَ تَزْعُمُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَیْبٍ لَیْسَ مِمَّنْ تُقْبَلُ رِوَایَتُہُ وَتَتْرُکُ عَلَیْنَا سُنَنًا رَوَاہَا تُوَافِقُ أَقَاوِیلَنَا وَتَقُولُ غَلَطٌ فَکَیْفَ تَرُدُّ رِوَایَتَہُ مَرَّۃً ثُمَّ تَحْتَجُّ بِہِ عَلَی أَہْلِ الْحِفْظِ وَالصِّدْقِ مَعَ أَنَّہُ لَمْ یَرْوِ شَیْئًا یُخَالِفُ قَوْلَنَا۔ [صحیح۔ للشافعی]
(١٧١٧٨) امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہی رائے عبداللہ بن عمرو (رض) کی ہے، عمرو بن شعیب والی حدیث میں اور حجان ایک سامان ہے جس کی قیمت ١١٢ درہم بنتی ہے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ربع دینار میں ہاتھ کاٹا ہے تو پھر اس سے زیادہ میں بھی کاٹا جائے گا اور آپ کا یہ گمان کہ عمرو بن شعیب کی روایات قبول نہیں اور تم ایسی روایات چھوڑ دیتے ہو جو ہمارے اقوال کے موافق ہو۔ آپ غلط بات کرتے ہیں تو پھر کیسے دوبارہ ان کی روایت کو رد کرو گے۔ پھر تم اہل صدق وحفظ سے یاد کرو گے ساتھ اس کے کہ وہ ہمارے قول کے خلاف کوئی روایت نہیں کرتا۔