(۱۷۲۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ ثَعْلَبَۃَ الشَّامِیِّ وَکَانَ طَارِقٌ اسْتَخْلَفَہُ عَلَی الْمَدِینَۃِ فَأُتِیَ بِسَارِقٍ فَعَاقَبَہُ فَاعْتَرَفَ بِالسَّرِقَۃِ فَبَعَثَ إِلَی ابْنِ عُمَرَ یَسْأَلُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : لاَ تَقْطَعْ یَدَہُ حَتَّی یُخْرِجَ السَّرِقَۃَ۔
(١٧٢٢١) حضرت ثعلبہ شامی فرماتے ہیں کہ طارق کو مدینہ میں خلیفہ بنایا گیا۔ ان کے پاس ایک چور لایا گیا۔ انھوں نے اسے ڈانٹا تو اس نے اعتراف کرلیا۔ پھر اسے حضرت عمر (رض) کی طرف بھیج دیا تاکہ ان سے ان کے متعلق پوچھیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : جب تک یہ مال مسروق پیش نہ کردے اس کا ہاتھ نہ کاٹنا۔