(۱۷۲۳۰) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : مَنْ سَرَقَ عَبْدًا صَغِیرًا أَوْ أَعْجَمِیًا لاَ حِیلَۃَ لَہُ قُطِعَ۔ وَرُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ لَمْ یَرَ عَلَیْہِمُ الْقَطْعَ قَالَ ہَؤُلاَئِ خَلاَّبُونَ۔ قَالَ أَصْحَابُنَا مَعْنَاہُ فِی الْعَبْدِ إِذَا کَانَ عَاقِلاً فَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَطَعَ رَجُلاً فِی غُلاَمٍ سَرَقَ۔ [ضعیف]
(١٧٢٣٠) ابن ابی زناد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور اہل مدینہ کے فقہاء سے کہ جو چھوٹے غلام کو چوری کرے با عجمی کو تو اس کا کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا، اس کے ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور وہ عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں کے ہاتھ کاٹنا ناپسند سمجھتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ وہ خلاب ہیں۔
ہمارے اصحاب نے کہا : خلاب کا معنیٰ ایسا غلام ہے جو عاقل ہو۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کے غلام نے چوری کی تو اس نے اس کے ہاتھ کاٹ دیا۔