(۱۷۲۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدًا لاِبْنِ عُمَرَ سَرَقَ وَہُوَ آبِقٌ فَأَرْسَلَ بِہِ عَبْدُ اللَّہِ إِلَی سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ وَہُوَ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ لِیَقْطَعَ یَدَہُ فَأَبَی سَعِیدٌ أَنْ یَقْطَعَ یَدَہُ وَقَالَ : لاَ تُقْطَعُ یَدُ الآبِقِ إِذَا سَرَقَ۔قَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرَ : فِی أَیِّ کِتَابِ اللَّہِ وَجَدْتَ ہَذَا؟ فَأَمَرَ بِہِ ابْنُ عُمَرَ فَقُطِعَتْ یَدُہُ۔ [صحیح]
(١٧٢٣٤) حضرت نافع (رح) سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) کے غلام نے چوری کی اور بھاگ گیا ۔ عبداللہ نے اس کو سعید بن عاص (رض) کے پاس بھیجا۔ وہ مدینہ کے امیر تھے (اس کے پاس اس لیے بھیجا) تاکہ وہ اس کا ہاتھ کاٹے، ابو سعید نے کہا : جو چوری کر کے بھاگ جائے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس کو ابن عمر (رض) نے کہا : کیا تو نے یہ بات اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ بات پائی ہے ؟ پھر ابن عمر (رض) نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔