(۱۷۲۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْکَرَابِیسِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِرَجُلٍ أَقْطَعَ الْیَدِ وَالرِّجْلِ قَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِہِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یُقْطَعَ رِجْلُہُ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّمَا جَزَائُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ} [المائدۃ ۳۳] إِلَی آخِرِ الآیَۃِ فَقَدْ قَطَعْتَ یَدَ ہَذَا وَرِجْلَہُ فَلاَ یَنْبَغِی أَنْ تَقْطَعَ رِجْلَہُ فَتَدَعَہُ لَیْسَ لَہُ قَائِمَۃٌ یَمْشِی عَلَیْہَا إِمَّا أَنْ تُعَزِّرَہُ وَإِمَّا أَنْ تَسْتَوْدِعَہُ السِّجْنَ قَالَ فَاسْتَوْدَعَہُ السِّجْنَ۔
الرِّوَایَۃُ الأُولَی عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَوْلَی أَنْ تَکُونَ صَحِیحَۃً وَکَیْفَ تَصِحُّ ہَذِہِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ أَنْکَرَ فِی الرِّوَایَۃِ الأُولَی قَطْعَ الرِّجْلِ بَعْدَ الْیَدِ وَالرِّجْلِ وَأَشَارَ بِالْیَدِ۔
وَرِوَایَۃُ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْصُولَۃٌ تَشْہَدُ لِلرِّوَایَۃِ الأُولَی بِالصِّحَّۃِ وَکَذَلِکَ رِوَایَۃُ صَفِیَّۃَ بِنْتِ أَبِی عُبَیْدٍ فِیہَا مَا فِی رِوَایَۃِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ۔ [ضعیف]
(١٧٢٦٨) حضرت عبدالرحمن بن عائذ فرماتے ہیں : ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب کے پاس لایا گیا، اس کا ہاتھ اور پاؤں کاٹا ہوا تھا۔ اس نے چوری کی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے حکم دیا یہ کہ اس کا پاؤں کاٹا جائے تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ عزوجل نے فرمایا : ان لوگوں کا بدلہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں۔ [المائدۃ ٣٣] پھر اس کا ہاتھ کاٹ دیا اور پاؤں بھی کاٹ دیا اب مناسب نہیں ہے کہ اس کا پاؤں کاٹا جائے پھر وہ نہ کھڑا ہوسکے اور چل سکے ۔ اسے تعزیراً کوئی سزا دی جائے یا اس کو جیل میں قید کیا جائے۔ فرمایا : قید کیا جائے : ایک دوسری روایت میں حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : پہلی روایت پاؤں کے بعد ہاتھ کاٹنا اور پھر پاؤں کاٹنا اس میں منع کیا ہے اور ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔