(۱۷۲۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ : لاَ تُضَعَّفُ الْغَرَامَۃُ عَلَی أَحَدٍ فِی شَیْئٍ إِنَّمَا الْعُقُوبَۃُ فِی الأَبْدَانِ لاَ فِی الأَمْوَالِ وَإِنَّمَا تَرَکْنَا تَضْعِیفَ الْغَرَامَۃِ مِنْ قِبَلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَضَی فِیمَا أَفْسَدَتْ نَاقَۃُ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ عَلَی أَہْلِ الأَمْوَالِ حِفْظَہَا بِالنَّہَارِ وَمَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِی بِاللَّیْلِ فَہُوَ ضَامِنٌ عَلَی أَہْلِہَا قَالَ فَإِنَّمَا یَضْمَنُونَہُ بِالْقِیمَۃِ لاَ بِقِیمَتَیْنِ قَالَ وَلاَ یُقْبَلُ قَوْلُ الْمُدَّعِی یَعْنِی فِی مِقْدَارِ الْقِیمَۃِ لأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : الْبَیِّنَۃُ عَلَی الْمُدَّعِی وَالْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ ۔ [صحیح]
(١٧٢٨٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : چٹی کو کسی چیز پر بھی نہیں بڑھایا جائے گا اور جسم کے اعضاء میں بدلہ لیا جائے گا مال میں نہیں اور ہم نے چٹی بڑھانے کو چھوڑا ہے اس سے پہلے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس اونٹنی کا فیصلہ کیا جو براء بن عازب کی تھی کہ دن کی حفاظت مال والے پر ہے اور جو چوپائے رات کو خراب کریں تو اس کا ضامن بھی اس کا اہل ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی ضمانت ایک قیمت ہے، دو قیمتیں نہیں اور دعویٰ کرنے والے کی بات کو قیمت کی مقدار میں انھیں قبول کیا جائے گا کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دعویٰ کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ دلیل دے اور جس پر دعویٰ کیا جا رہا ہے اس پر قسم ہے۔