(۱۷۴) وَأَخْبَرَنَا الْحَاکِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَۃَ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الْکِنْدِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ رَبِیعَۃَ الْقُرَشِیُّ الْمَدَنِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَکْثَمَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَسْتَاکُ عَرْضًا وَیَشْرَبُ مَصًّا وَیَقُولُ: ((ہُوَ أَہْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ أَکْثَمَ۔
وَزَادَ فِی حَدِیثِ بَہْزٍ وَیَتَنَفَّسُ ثَلاَثًا وَیَقُولُ: ہُوَ أَہْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ ۔وَإِنَّمَا یُعْرَفُ بَہْزٌ بِہَذَا الْحَدِیثِ ، ذَکَرَہُ ابْنُ مَنِیعٍ وَابْنُ مَنْدَہْ فَأَمَّا رَبِیعَۃُ بْنُ أَکْثَمَ فَإِنَّہُ اسْتُشْہِدَ بِخَیْبَرَ۔[ضعیف۔ أخرجہ العقیلی فی الصعفاء ۳/۲۲۹]
(١٧٤) (الف) سیدنا ربیعہ بن اکثم سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چوڑائی کے بل مسواک کرتے تھے اور اس کو چوس کر پیتے تھے اور فرماتے تھے : یہ زیادہ ہضم کرنے والا بےحد مزے دار اور شفا یاب ہے۔
(ب) اور بہز کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ تین سانس لیتے تھے اور فرماتے تھے : یہ زیادہ ہضم کرنے والا اور بےحد مزے دار اور زیادہ شفا یاب ہے۔
(ب) سیدنا ربیعہ بن اکثم غزوہ خیبر میں شریک ہوئے۔