(۱۷۳۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ ہُوَ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَہْطًا مِنْ عُکْلٍ وَعُرَیْنَۃَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا أُنَاسٌ مِنْ أَہْلِ ضَرْعٍ وَلَمْ نَکُنْ أَہْلَ رِیفٍ فَاسْتَوْخَمْنَا الْمَدِینَۃَ فَأَمَرَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِذَوْدٍ وَزَادٍ وَأَمَرَہُمْ أَنْ یَخْرُجُوا فِیہَا فَیَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِہَا وَأَلْبَانِہَا فَانْطَلَقُوا حَتَّی إِذَا کَانُوا فِی نَاحِیَۃِ الْحَرَّۃِ قَتَلُوا رَاعِیَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ وَکَفَرُوا بَعْدَ إِسْلاَمِہِمْ فَبَعَثَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی طَلَبِہِمْ فَأَمَرَ بِہِمْ فَقَطَعَ أَیْدِیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ وَسَمَرَ أَعْیُنَہُمْ وَتَرَکَہُمْ فِی نَاحِیَۃِ الْحَرَّۃِ حَتَّی مَاتُوا وَہُمْ کَذَلِکَ
قَالَ قَتَادَۃُ فَذُکِرَ لَنَا أَنَّ ہَذِہِ الآیَۃَ نَزَلَتْ فِیہِمْ یَعْنِی {إِنَّمَا جَزَائُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیَسْعَوْنَ فِی الأَرْضِ فَسَادًا} [المائدۃ ۳۳] الآیَۃَ
قَالَ قَتَادَۃُ وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَحُثُّ فِی خُطْبَتِہِ بَعْدَ ذَلِکَ عَلَی الصَّدَقَۃِ وَیَنْہَی عَنِ الْمُثْلَۃِ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔[صحیح]
(١٧٣٠٨) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ آئے۔ وہ بیمار ہوگئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ! ہم دودھ پینے والے لوگ ہیں، زمین والے ہم نہیں ہیں تو آپ نے حکم دیا کہ وہ یہاں سے اونٹوں کی چراگاہ چلے جائیں۔ وہاں ان کا دودھ اور پیشاب ملا کر پئیں۔ انھوں نے وہاں چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ لے کر بھاگ گئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا تعاقب کروایا اور ان کو حراء مقام سے گرفتار کرلیا۔ آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروائیں اور انھیں دھوپ میں پھینک دیا، یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
اور قتادہ کہتے ہیں :{إِنَّمَا جَزَائُ الَّذِینَ ۔۔۔} [المائدۃ ٣٣] انہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔