(۱۷۳۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ أَنَّ أَبَاہُ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّہَا أُمُّ الْخَبَائِثِ إِنَّہُ کَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ خَلاَ قَبْلَکُمْ یَتَعَبَّدُ وَیَعْتَزِلُ النَّاسَ فَعَلِقَتْہُ امْرَأَۃٌ غَوِیَّۃٌ فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہِ جَارِیَتَہَا فَقَالَتْ إِنَّا نَدْعُوکَ لِشَہَادَۃٍ فَدَخَلَ مَعَہَا فَطَفِقَتْ کُلَّمَا دَخَلَ بَابًا أَغْلَقَتْہُ دُونَہُ حَتَّی أَفْضَی إِلَی امْرَأَۃٍ وَضِیئَۃٍ عِنْدَہَا غُلاَمٌ وَبَاطِیَۃُ خَمْرٍ فَقَالَتْ إِنِّی وَاللَّہِ مَا دَعَوْتُکَ لِشَہَادَۃٍ وَلَکِنِّی دَعَوْتُکَ لِتَقَعَ عَلَیَّ أَوْ تَقْتُلَ ہَذَا الْغُلاَمَ أَوْ تَشْرَبَ ہَذَا الْخَمْرَ فَسَقَتْہُ کَأْسًا فَقَالَ زِیدُونِی فَلَمْ یَرِمْ حَتَّی وَقَعَ عَلَیْہَا وَقَتَلَ النَّفْسَ فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّہَا لاَ تَجْتَمِعُ ہِیَ وَالإِیمَانُ أَبَدًا إِلاَّ أَوْشَکَ أَحَدُہُمَا أَنْ یُخْرِجَ صَاحِبَہُ۔ [صحیح]
(١٧٣٣٩) حضرت عثمان بن عفان (رض) فرماتے ہیں : تم شراب سے بچو ۔ یہ شراب خبیث چیزوں کی ماں ہے۔ تم سے پہلے آدمیعبادت کرتا تھا اور لوگوں سے الگ تھلگ رہتا۔ اس کو باغی عورت اٹھوالیا اور اس کی طرف اپنی لونڈی کو بھیجا کہ ہم آپ کو شہادت کے لیے بلا رہے ہیں۔ وہ آگیا تو جب وہ دروازوں میں داخل ہوا تو تمام دروازے بند کر یتے اور میں نے تمہیں شہادت کے لیے نہیں بلایا بلکہ اس لیے بلایا کہ ان تین کاموں سے ایک کام کرلو یا میرے ساتھ زنا یا اس بچے کو قتل یا شرب پی لو تو اس نے شراب پی اور بہت زیادہ پیتو زنا وہ بھی کر بیٹھا اور بچے کو بھی قتل کر دیا؛لہٰذا شراب سے بچو کیونکہ ایمان اور شراب اکٹھے نہیں ہوسکتے۔