(۱۷۴۳۶) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عِیسَی الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّۃَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِیٍّ الْمُقَدَّمِیُّ عَنِ الْکَلْبِیِّ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِی وَدَاعَۃَ السَّہْمِیِّ قَالَ : طَافَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْبَیْتِ فِی یَوْمٍ قَائِظٍ شَدِیدِ الْحَرِّ فَاسْتَسْقَی رَہْطًا مِنْ قُرَیْشٍ فَقَالَ : ہَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْکُمْ شَرَابٌ فَیُرْسِلَ إِلَیْہِ؟ ۔ فَأَرْسَلَ رَجُلٌ مِنْہُمْ إِلَی مَنْزِلِہِ فَجَائَ تْ جَارِیَۃٌ مَعَہَا إِنَاء ٌ فِیہِ نَبِیذُ زَبِیبٍ فَلَمَّا رَآہَا النَّبِیُّ -ﷺ- قَالَ : أَلاَ خَمَّرَتْہُ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُہُ عَلَیْہِ ۔
فَلَمَّا أَدْنَاہُ مِنْہُ وَجَدَ لَہُ رَائِحَۃً شَدِیدَۃً فَقَطَّبَ وَرَدَّ الإِنَائَ فَقَالَ الرَّجُلُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنْ یَکُنْ حَرَامًا لَمْ نَشْرَبْہُ فَاسْتَعَادَ الإِنَائَ وَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِکَ فَقَالَ الرَّجُلُ مِثْلَ ذَلِکَ فَدَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ فَصَبَّہُ عَلَی الإِنَائِ وَقَالَ : إِذَا اشْتَدَّ عَلَیْکُمْ شَرَابُکُمْ فَاصْنَعُوا بِہِ ہَکَذَا ۔ [ضعیف]
(١٧٤٣٦) مطلب بن ابی وداعہسہمی فرماتیکہتے ہیں کہ ایک دن سخت گرمی میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ قریش کے لوگوں سے پینے کے لیے کچھ مانگا تو ایک آدمی نے اپنے گھر پیغام بھیجا تو ایک لونڈی منقیٰ کا نبیذ لے آئی۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دیکھا تو فرمایا : کیا اس نے اس کے نشے کو نہ اتارا، چاہے عود کے ساتھ ہی جو اس پر ڈالا جاتا۔ جب اسے آپ کے قریب کیا تو آپ نے اس سے ناپسندیدہ بو پائی تو آپ کے چہرے سے ترش روئی محسوس ہوئی اور آپ نے وہ برتن واپس کردیا تو ایک آدمی نے کہا : یا رسول اللہ ! اگر یہ حرام ہے تو ہم اسے نہیں پئیں گے۔ انھوں نے دوبارہ برتن آپ کی طرف کیا، آپ نے پھر ویسے ہی واپس کردیا اس شخص نے پھر وہی بات کہی تو پھر آپ نے زم زم کا پانی منگوایا اور اس میں شامل کردیا اور فرمایا : جب یہ سخت ہوجائے تو اس میں اس طرح پانی ملا دیا کرو۔