(۱۷۴۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ عَنْ أَبِی حَیَّانَ وَہُوَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَرْیَمَ بِنْتِ طَارِقٍ قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی نِسْوَۃٍ مِنْ أَہْلِ الأَمْصَارِ فَجَعَلْنَ یَسْأَلْنَہَا عَنِ الظُّرُوفِ فَقَالَتْ : تَسْأَلُنَّ عَنْ ظُرُوفٍ مَا کَانَتْ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنْہَاکُنَّ عَنْ کُلِّ مُسْکِرٍ وَإِنْ أَسْکَرَ إِحْدَاکُنَّ مَائُ حَبِّہَا۔ [ضعیف]
(١٧٤٨٩) مریم بنت طارق کہتی ہیں کہ مختلف علاقوں کی عورتوں کے ساتھ میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی اور تمام عورتوں نے برتنوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ (رض) نے فرمایا : تم عہد رسالت کے برتنوں کے بارے میں پوچھتی ہو، میں تمہیں ہر نشہ آور سے منع کرتی ہوں ۔ اگر کسی کے مشکیزے کے پانی میں بھی نشہ ہوجائے تو وہ بھی ممنوع ہے۔