(۱۷۵۱۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ بْنِ یَزِیدَ بْنِ رُکَانَۃَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْخَمْرِ إِلاَّ أَخِیرًا لَقَدْ غَزَا غَزْوَۃَ تَبُوکٍ فَغَشَی حُجْرَتَہُ مِنَ اللَّیْلِ أَبُو عَلْقَمَۃَ بْنُ الأَعْوَرِ السُّلَمِیُّ وَہُوَ سَکْرَانُ حَتَّی قَطَعَ بَعْضَ عُرَی الْحُجْرَۃِ فَقَالَ : مَنْ ہَذَا؟ ۔ فَقِیلَ : أَبُو عَلْقَمَۃَ سَکْرَانُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لِیَقُمْ إِلَیْہِ رَجُلٌ مِنْکُمْ فَلْیَأْخُذْ بِیَدِہِ حَتَّی یَرُدَّہُ إِلَی رَحْلِہِ۔
(ق) وَہَذَا إِنْ صَحَّ فَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمْ یَقِتْ فِی الْخَمْرِ حَدًّا یَعْنِی لَمْ یُوَقِّتْہُ لَفْظًا وَقَدْ وَقَّتَہُ فِعْلاً وَذَلِکَ یَرِدُ وَإِنَّمَا لَمْ یَعْرِضْ لَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ بَعْدَ دُخُولِہِ دَارَ الْعَبَّاسِ مِنْ أَجْلِ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ ثَبَتَ عَلَیْہِ الْحَدُّ بِإِقْرَارٍ مِنْہُ أَوْ بِشَہَادَۃِ عُدُولٍ وَإِنَّمَا لُقِیَ فِی الطَّرِیقِ یَمِیلُ فَظُنَّ بِہِ السُّکْرُ فَلَمْ یَکْشِفْ عَنْہُ وَتَرَکَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١٧٥١٢) ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیشرابی کو صرف آخر میں سزا دی ہے۔ آپ نے غزوہ تبوک کیا تو رات کے وقت ابو علقمہ بن اعور سلمی اپنے حجرے میں نشے میں دھت ہوگیا یہاں تک کہ اس نے بعض حجرے کی رسیاں کاٹ دیں تو پوچھا : یہ کون ہے ؟ کہا گیا : ابو علقمہ نشے کی حالت میں تو آپ نے فرمایا : کوئی اسے پکڑو اور اس کی سواری کے پاس چھوڑ آؤ۔
اگر یہ ابن عباس سے صحیح ثابت ہو تو پھر یہ مطلب ہوگا کہ آپ نے فوراً کوئی شراب کی حد مقرر نہیں فرمائی عملاً مقرر فرمائی ہے اور یہ اس حدیث کے بھی معارض نہیں جو پہلے گزر چکی ہے کہ راستے میں ایک شخص نشے میں ٹہلتے دیکھا گیا تو اسے آپ کے پاس لانے لگے تو وہ حضرت عباس کے پاس بھاگ گیا؛ کیونکہ اس میں گمان تھا کہ اس نے نشہ کیا ہے اور نشہ ابھی ٹوٹا نہیں تھا اس لیے اسے چھوڑ دیا۔