hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 17524

.

سنن البيهقي

17524
Sunan Al Bayhaqi
(۱۷۵۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَمُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْمَعْنَی قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ الدَّانَاجُ حَدَّثَنِی حُضَیْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِیُّ وَہُوَ أَبُو سَاسَانَ قَالَ : شَہِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأُتِیَ بِالْوَلِیدِ بْنِ عُقْبَۃَ فَشَہِدَ عَلَیْہِ حُمْرَانُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَشَہِدَ أَحَدُہُمَا أَنَّہُ رَآہُ شَرِبَہَا یَعْنِی الْخَمْرَ وَشَہِدَ الآخَرُ أَنَّہُ رَآہُ یَتَقَیَّؤُہَا۔ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّہُ لَمْ یَتَقَیَّأْہَا حَتَّی شَرِبَہَا فَقَالَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَقِمْ عَلَیْہِ الْحَدَّ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ لِلْحَسَنِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَقِمْ عَلَیْہِ الْحَدَّ۔ فَقَالَ : وَلِّ حَارَّہَا مِنْ تَوَلَّی قَارَّہَا۔ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ : أَقِمْ عَلَیْہِ الْحَدَّ۔ قَالَ : فَأَخَذَ السَّوْطَ فَجَلَدَہُ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِینَ قَالَ : حَسْبُکَ جَلَدَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَرْبَعِینَ أَحْسَبُہُ قَالَ وَجَلَدَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرْبَعِینَ وَعُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثَمَانِینَ وَکُلٌّ سُنَّۃٌ وَہَذَا أَحَبُّ إِلَیَّ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الْعَزِیزِ۔ وَہَذَا لاَ أَعْلَمُ لَہُ تَأْوِیلاً یَصِحُّ غَیْرَ أَنَّہُ قَبِلَ الشَّہَادَۃَ عَلَیْہِ ہَکَذَا وَمَنْ یُخَالِفَہُ یَقُولُ لَمْ تَجْتَمِعْ شَہَادَتُہُمَا عَلَی شُرْبِہِ وَقَدْ یُکْرَہُ عَلَی الشُّرْبِ فَیَتَقَیَّأُہَا۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی نَظِیرِ ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ : وَمُغَیَّبُ الْمَعْنَی لاَ یُحَدُّ فِیہِ أَحَدٌ وَلاَ یُعَاقَبُ إِنَّمَا یُعَاقَبُ النَّاسُ عَلَی الْیَقِینِ۔ [صحیح]
(١٧٥١٨) ابو ساسان کہتے ہیں کہ میں حضرت عثمان کے پاس تھا کہ ولید بن عقبہ کو لایا گیا۔ اس پر حمران اور ایک شخص نے گواہی دی تھی کہ اس نے شراب پی ہے۔ دوسرے شخص نے یہ گواہی دی تھی کہ اسے قے کرتے دیکھا تھا تو حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : بغیر پئے تو قے آتی ہی نہیں ہے۔ لہٰذا علی اسے حد لگاؤ تو حضرت علی (رض) نے حسن کو کہا تو حسن نے فرمایا : ” جو والی بنا ہے زمی کا سختی میں بھی وہی ہے۔ “ پھر علی نے جعفر کو کہا تو انھوں نے حد قائم کردی۔ جب چالیس کوڑے پورے ہوگئے تو حضرت علی (رض) نے روک دیا اور کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) نے ٤٠ کوڑے لگائے ہیں اور عمر (رض) نے ٨٠۔ مارے سنت ہیں لیکن یہ مجھے زیادہ محبوب ہیں۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جب تک یقین نہ ہو اس وقت تک حد قائم نہ کی جائے۔