(۱۷۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّہُ سُئِلَ ہَلِ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَاتَمًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ أَخَّرَ الصَّلاَۃَ صَلاَۃَ الْعِشَائِ ذَاتَ لَیْلَۃٍ إِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ ، فَلَمَّا صَلَّی أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ فَقَالَ : ((النَّاسُ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا ، وَإِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا فِی صَّلاَۃٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَۃَ))۔ فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی وَبِیصِ خَاتَمِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُنِیرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۵۳۱]
(١٧٥٤) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انگوٹھی بنائی ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ! ایک رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز نصف رات تک مؤخرکر دی، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے اور تم نماز میں ہی رہے ہو جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو۔ گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔