(۱۷۵۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو النَّضْرِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ أُتِیَ بِشَارِبٍ فَقَالَ لأَبْعَثَنَّکَ إِلَی رَجُلٍ لاَ تَأْخُذُہُ فِیکَ ہَوَادَۃٌ فَبَعَثَ بِہِ إِلَی مُطِیعِ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَدَوِیِّ فَقَالَ : إِذَا أَصْبَحْتَ غَدًا فَاضْرِبْہُ الْحَدَّ فَجَائَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَضْرِبُہُ ضَرْبًا شَدِیدًا فَقَالَ : قَتَلْتُ الرَّجُلَ کَمْ ضَرَبْتَہُ؟ قَالَ : سِتِّینَ۔ قَالَ : أَقِصَّ عَنْہُ بِعِشْرِینَ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : أَقِصَّ عَنْہُ بِعِشْرِینَ یَقُولُ اجْعَلْ شِدَّۃَ ہَذَا الضَّرْبِ الَّذِی ضَرَبْتَہُ قَصَاصًا بِالْعِشْرِینَ الَّتِی بَقِیَتْ وَفِی ہَذَا الْحَدِیثِ مِنَ الْفِقْہِ أَنَّ ضَرْبَ الشَّارِبِ ضَرْبٌ خَفِیفٌ وَفِیہِ أَنَّہُ لَمْ یَضْرِبْہُ فِی سُکْرِہِ حَتَّی أَفَاقَ أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَہُ إِذَا أَصْبَحْتَ غَدًا فَاضْرِبْہُ الْحَدَّ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمُہُ اللَّہُ وَفِیہِ أَنَّ الزِّیَادَۃَ عَلَی الأَرْبَعِینَ تَعْزِیرٌ وَلَیْسَتْ بِحَدٍّ۔ [صحیح]
(١٧٥٢٦) حضرت عمر (رض) کے پاس ایک شرابی لایا گیا تو فرمایا : میں تجھے ایسے شخص کے پاس بھیجوں گا جو تجھ سے کچھ نرمی نہیں برتے گا۔ اسے مطیع بن اسود کے پاس بھیج دیا اور کہا کہ کل صبح اسے حد لگانا۔ حضرت عمر (رض) اگلے دن اس کے پاس گئے تو وہ بہت سخت مار مار رہا تھا تو دیکھ کر فرمایا : تو نے تو اسے مار ہی ڈالا، کتنے کوڑے مارے ہیں ؟ کہا : ساٹھ تو فرمایا : ٢٠ کا قصاص دے۔ کیونکہ حدیث میں یہ ہے کہ شرابی کو زیادہ سخت کوڑے نہ مارے جائیں اور اس کا نشہ اترنے کے بعد اسے کوڑے مارے جائیں۔