(۱۷۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْخُرَاسَانِیُّ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی یَعْنِی ابْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْعِشَائِ الآخِرَۃَ إِلَی قَرِیبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی وَقَالَ : ((إِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا فِی الصَّلاَۃِ مَا انْتَظَرْتُمُوہَا ، وَلَوْلاَ کِبَرُ الْکَبِیرِ وَضَعْفُ الضَّعِیفِ))۔ أَحْسِبُہُ قَالَ : ((وَذُو الْحَاجَۃِ لأَخَّرْتُ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ إِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ))۔
[صحیح۔ أخرجہ ابن حبان ۱۵۲۹]
(١٧٥٨) ابی سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز کو نصف رات کے قریب تک موخر کیا پھر نکلے اور آپ نے نماز پڑھائی اور فرمایا : تم نماز میں رہے ہو جب تک انتظار کرتے رہے اور اگر مجھے بوڑھے کے بڑھاپے اور ضعیف کے ضعف کا خیال نہ ہوتا۔ راوی کہتا ہے : میرے خیال میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا اور کام والے کے کام کا تو میں ضرور اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کردیتا۔