(۱۷۵۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ بِبُخَارَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِرَجُلٍ فِی حَدٍّ فَأُتِیَ بِسَوْطٍ فِیہِ شِدَّۃٌ فَقَالَ : أُرِیدُ أَلْیَنَ مِنْ ہَذَا ثُمَّ أُتِیَ بِسَوْطٍ فِیہِ لِینٌ فَقَالَ : أُرِیدُ أَشَدَّ مِنْ ہَذَا۔ فَأُتِیَ بِسَوْطٍ بَیْنَ السَّوْطَیْنِ فَقَالَ : اضْرِبْ وَلاَ یُرَی إِبْطُکَ وَأَعْطِ کُلَّ عُضْوٍ حَقَّہُ۔ [حسن]
(١٧٥٧٥) ابو عثمان نہدی کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس حد کے لیے بڑا سخت کوڑا لایا گیا تو آپ نے کہا : اس سے نرم، پھر نرم لایا گیا تو آپ نے کہا : اس سے تھوڑا سخت۔ جب وہ لایا گیا تو فرمایا : اسے مار لیکن تمہاری بغلیں نظر نہ آئیں اور ہر عضو کو اس کا حق دو ۔