(۱۷۵۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ یُحَدِّثُ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : إِنَّ أَہْلَ الْعِرَاقِ یَقُولُونَ إِنَّ الْقَاذِفَ لاَ یُجْلَدُ جَلْدًا شَدِیدًا۔ قَالَ سَعْدٌ : وَأَشْہَدُ عَلَی أَبِی أَنَّہُ حَدَّثَنِی أَنَّہُ لَمَّا جُلِدَ أَبُو بَکْرَۃَ أَمَرَتْ أُمُّہُ بِشَاۃٍ فَذُبِحَتْ ثُمَّ سُلِخَتْ فَأَلْبَسَتْہُ جِلْدَہَا فَہَلْ ذَاکَ إِلاَّ مِنْ جَلْدٍ شَدِیدٍ؟ [ضعیف]
(١٧٥٧٩) زہری کہتے ہیں کہ اہل عراق یہ کہتے تھے کہ حد قذف زیادہ سخت نہیں ماری جائے گی تو سعد کہنے لگے کہ جب ابو بکرہ کو حد لگی تھی تو اس کی ماں نے ایک بکری ذبح کروائی۔ پھر اس کی کھال کو اس کو پہنایا تھا تو کیا یہ سخت مار نہیں تھی۔