(۱۷۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ: ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ مُجَاہِدٍ کَانَ یَقُولُ: انْظُرُوا یُوَافِقُ حَدِیثِی مَا سَمِعْتُمْ مِنَ الْکِتَابِ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ: أَنْ صَلُّوا الظُّہْرَ حِینَ تَرْتَفِعُ الشَّمْسُ یَعْنِی تَزُولَ ، وَصَلُّوا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ ، وَصَلُّوا الْمَغْرِبَ حِینَ تَغِیبُ الشَّمْسُ ، وَصَلُّوا الْعِشَائَ إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ الأَوَّلِ ، وَصَلُّوا الصُّبْحَ بِغَلَسٍ أَوْ بِسَوَادٍ ، وَأَطِیلُوا الْقِرَائَۃَ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ عبد الرزاق ۲۰۳۵]
(١٧٦٢) مجاہد فرماتے ہیں : دیکھومیری حدیث کتاب اللہ کے موافق ہے۔ سیدنا عمر (رض) نے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی طرف لکھا کہ جس وقت سورج بلند ہو تو ظہر کی نماز پڑھو یعنی جب وہ ڈھل جائے اور عصر کی نماز پڑھو سورج سفید صاف ہو اور مغرب کی نماز پڑھو جس وقت سورج غائب ہوجائے اور فرمایا : عشا کی نماز آدھی رات تک پڑھو اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھو یا سیاہی میں اور قراءت کو لمبا کرو۔